تپ دق کے خلاف حکومت اور عالمی ادارے کا مشترکہ عزم

newsdesk
5 Min Read
وفاقی وزارتِ صحت اور عالمی ادارہ صحت نے یومِ تپ دق پر تشخیص، مفت علاج اور ۲۰۳۱ سہولتوں کے ذریعے بیماری ختم کرنے کا عزم دہرایا

اسلام آباد — عالمی یومِ تپِ دق کے موقع پر حکومتِ پاکستان اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں تپِ دق جیسے مہلک مرض کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق پاکستان میں ہر سال 6 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد تپِ دق کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 51 ہزار اموات رپورٹ ہوتی ہیں، یوں روزانہ تقریباً 140 افراد اس بیماری کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

وزارتِ قومی صحت خدمات، ریگولیشن و کوآرڈینیشن نے ایڈز، ٹی بی اور ملیریا کے مشترکہ انتظامی یونٹ کے ذریعے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر اس بیماری کے خلاف کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا۔ پاکستان مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں تپِ دق کے بوجھ کا 73 فیصد برداشت کر رہا ہے اور دنیا میں اس مرض سے متاثرہ پانچواں بڑا ملک ہے۔ ملک میں روزانہ 1800 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

اس سال کا موضوع "جی ہاں، ہم تپِ دق کا خاتمہ کر سکتے ہیں — ممالک کی قیادت اور عوام کی طاقت” رکھا گیا، جس کے تحت تمام شراکت داروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے لیے سرمایہ کاری کریں۔ عوام کو یاد دہانی کرائی گئی کہ تپِ دق قابلِ علاج مرض ہے اور بروقت تشخیص و علاج سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد سرکاری و نجی مراکز پر مفت تشخیص اور علاج کی سہولت دستیاب ہے جبکہ علاج کی کامیابی کی شرح 95 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کثیر الجہتی اقدامات، پائیدار مالی وسائل اور مریض مرکوز حکمت عملی کے ذریعے تپِ دق کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی اور تمام متعلقہ فریقین کی شمولیت اس مقصد کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 2024 کے دوران 4 لاکھ 97 ہزار سے زائد مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی، جو 2015 میں 3 لاکھ 31 ہزار مریضوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے تقریباً 50 لاکھ افراد کو تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔

ملک بھر میں جدید تشخیصی سہولیات کو فروغ دیتے ہوئے 562 سے زائد جین ایکسپرٹ مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ قومی رہنما اصولوں کو عالمی ادارہ صحت کی تازہ ہدایات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

عالمی فنڈ کی مالی معاونت سے ڈبلیو ایچ او حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر قومی پروگرام کو مضبوط بنانے، علاج تک رسائی بہتر بنانے، بدنامی کے خاتمے اور روک تھام کے اقدامات کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ طبی عملے کی استعداد کار میں اضافہ اور تپِ دق کی خدمات کو ذہنی صحت، زچگی اور بچوں کی صحت کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ ملک میں ہر 10 منٹ میں ایک شخص تپِ دق سے جاں بحق ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ اموات قابلِ بچاؤ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہے اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یومِ تپِ دق کے موقع پر حکومت اور عالمی ادارہ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے، ادویات کے خلاف مزاحمت کی روک تھام اور ہر مریض کے مکمل علاج کو یقینی بنایا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے