اسلام آباد میں پچیس ہزار بچوں کا تین ماہ میں داخلہ

newsdesk
3 Min Read
وفاقی وزارت نے تین ماہ میں اسلام آباد کے پچیس ہزار بیرونِ مدرسہ بچوں کو داخل کروانے کا ہدف مقرر کر دیا، گھر گھر سروے اور کمیونٹی اسکول قائم کیے جائیں گے

وفاقی وزارت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اسلام آباد میں پچیس ہزار بیرون‌ِ مدرسہ بچوں کو تین ماہ کے اندر داخل کروانے کا ہدف طے کیا ہے جو ایک تین سالہ منصوبے کے تحت عمل میں لایا جائے گا تاکہ ملک کے تمام خارج‌ِ تعلیم بچوں کو دوبارہ نظامِ تعلیم سے جوڑا جا سکے۔اس مہم کے نفاذ کے لیے وفاقی ڈائریکٹوریٹ برائے تعلیم، قومی کمیشن برائے انسانی نشوونما، بنیادی تعلیمی کمیونٹی اسکولز اور قومی تعلیمی فاؤنڈیشن کی ٹیمیں وفاقی دارالحکومت میں متحرک کر دی گئی ہیں۔ یونین کونسل سطح پر گھر گھر سروے کر کے بچوں کی شناخت اور فوری داخلہ یقینی بنایا جائے گا، تاکہ علاقے کے شرائط اور ضرورت کے مطابق تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے۔حکومت نے ایسے علاقوں میں جہاں بیرونِ مدرسہ بچوں کی کثیر تعداد موجود ہے، عوامی بنیادوں پر کمیونٹی اسکول قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل کیا ہے تاکہ بچوں کے گھر کے قریب رہتے ہوئے انہیں معیاری سیکھنے کے مواقع میسر ہوں۔ یہ طرزِ عمل مقامی مسائل اور تعلیمی ضرورتوں کے مطابق تعلیمی خدمات کو ہموار کرے گا اور بچوں کی تعلیم تک رسائی بہتر بنائے گا۔عملی کام میں سہولت کے لیے یونیورسٹیوں کے طلبہ کو رضاکارانہ بنیادوں پر شامل کیا جا رہا ہے جو اپنے علاقوں میں شناخت اور داخلہ کے عمل میں مدد دیں گے۔ بین‌الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں اور مقامی سول سوسائٹی گروپ بھی اس مہم کے ساتھی ہیں تاکہ گھریلو سطح پر پہنچ اور آگاہی کو بڑھایا جا سکے۔ وفاقی سیکرٹری برائے تعلیم ندیم محبوب نے کہا کہ یہ مہم وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی "کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کے تسلسل میں ہے اور اس کی پیشرفت کا جائزہ ہر ہفتے لیا جائے گا تاکہ وقت کی پابندی اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کی تعلیم کو بنیادی حق تصور کرتے ہوئے کسی بھی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رکھا جائے گا اور یہ ہدف اس عزم کی مظبوط عکاسی کرتا ہے کہ پچیس ہزار بچوں کے داخلے کا عمل متعین مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے