آئی بی سی سی نے نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت بین الاقوامی امتحانی بورڈز کی رجسٹریشن شروع کر دی
اسلام آباد: انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے پاکستان میں کام کرنے والے بین الاقوامی امتحانی بورڈز اور کوالیفیکیشن ایوارڈنگ باڈیز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آئی بی سی سی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ آئی بی سی سی ایکٹ 2023 (ایکٹ نمبر XIII) کے تحت کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پاکستان میں پیش کی جانے والی غیر ملکی امتحانی اسناد اور بین الاقوامی تعلیمی پروگرامز کو منظم اور ریگولیٹ کرے۔ اس مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے آئی بی سی سی نے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی ایوارڈنگ باڈیز کے نظام میں شفافیت، معیار کی یقین دہانی اور معیاری ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے۔
رجسٹریشن کا یہ عمل آئی بی سی سی ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق مکمل کیا گیا جس کے تحت درخواست گزار اداروں کو گورننس، امتحانی نظام کی دیانت داری، کوالٹی اشورنس، ریگولیٹری تقاضوں کی پاسداری اور ادارہ جاتی شفافیت سمیت پندرہ (15) معیاروں پر پورا اترنا ضروری تھا۔ جمع کروائی گئی دستاویزات کی تفصیلی جانچ پڑتال اور تمام مقررہ تقاضوں کی تکمیل کے بعد درخواستوں کا باقاعدہ طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا گیا اور بعد ازاں انہیں آئی بی سی سی ریگولیٹری کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس جامع عمل کی تکمیل اور ریگولیٹری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعدد بین الاقوامی کوالیفیکیشن ایوارڈنگ باڈیز اور غیر ملکی امتحانی بورڈز کو آئی بی سی سی کے ساتھ رجسٹر کر لیا گیا ہے جن میں پیئرسن ایجوکیشن لمیٹڈ، آکسفورڈ انٹرنیشنل اے کیو اے ایگزامینیشنز لمیٹڈ، لرننگ ریسورس نیٹ ورک (LRN)، سٹی اینڈ گلڈز آف لندن انسٹی ٹیوٹ، لندن اسیسمنٹ بورڈ لمیٹڈ اور انٹرنیشنل بیکالوریئیٹ آرگنائزیشن شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کئی دیگر نمایاں بین الاقوامی ایوارڈنگ باڈیز نے بھی آئی بی سی سی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں جن میں کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن، جنرل ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (GED)، این سی سی ایجوکیشن لمیٹڈ اور سائر اسکالرز اینڈ اکیڈمی شامل ہیں۔ ان کی درخواستوں پر ضروری جائزہ مکمل ہونے کے بعد انہیں بھی ریگولیٹری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ اقدام پاکستان میں غیر ملکی تعلیمی اسناد کے مؤثر ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک میں پیش کی جانے والی بین الاقوامی اسناد عالمی معیار اور اعتبار کے تقاضوں پر پورا اتریں۔ اس فریم ورک کے نفاذ کے ذریعے آئی بی سی سی شفافیت، تعلیمی دیانت داری اور غیر ملکی تعلیمی اسناد کو پاکستان کے قومی تعلیمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے اس موقع پر کہا کہ آئی بی سی سی تمام غیر ملکی امتحانی بورڈز کو پاکستان میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے شراکت دار کے طور پر سہولت فراہم کر رہا ہے اور انہیں محض کاروباری اداروں کے طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ریگولیٹری فریم ورک کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان میں پیش کی جانے والی بین الاقوامی تعلیمی اسناد عالمی معیار کے مطابق ہوں اور ملکی تعلیمی نظام کی بہتری میں مثبت کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر ملاح نے مزید کہا کہ آئی بی سی سی پاکستان کے امتحانی نظام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے اور برطانیہ کی ایکریڈیٹیشن باڈیز کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے تاکہ پاکستانی طلبہ کو برطانیہ کی جامعات میں داخلے کے وقت اضافی فاؤنڈیشن سال ضائع نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جائزہ رپورٹ موصول ہو چکی ہے اور آئی بی سی سی اس کے جواب کی تیاری کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات اور معلومات کو مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی بی سی سی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور امتحانی اصلاحات کے ذریعے اپنے داخلی نظام کو بھی بہتر بنا رہا ہے تاکہ پاکستان کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے نکال کر تصوراتی اور فہم پر مبنی تعلیم کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
