خیبر پختونخوا میں فارماسسٹ کو نظر انداز کرنے پر ینگ فارماسسٹ کمیونٹی کا احتجاج

newsdesk
3 Min Read
نوجوان فارماسسٹ کمیونٹی نے پشاور پریس کلب میں محکمہ صحت کی غفلت اور پالیسی عدم نفاذ پر ایک ماہ کی مہلت دیدی

پشاور: ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان نے پشاور پریس کلب میں پریس بریفنگ کے دوران خیبر پختونخوا کے نظامِ صحت میں فارماسسٹ کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین ناانصافی قرار دیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران تنظیم کے نمائندوں نے محکمہ صحت کی جانب سے فارماسسٹ کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فارماسسٹ نظامِ صحت کے بنیادی ستونوں میں شامل ہیں، لیکن انہیں پالیسی پر عمل درآمد، بھرتیوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف فارماسسٹ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان کے نمائندوں نے کہا کہ فارماسسٹ کے بغیر کوئی بھی نظامِ صحت محفوظ اور مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتا۔ ہسپتالوں میں فارماسسٹ کی عدم موجودگی کے باعث ادویات کے استعمال میں غلطیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کی ترسیل اور جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت جیسے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات کے غیر معقول استعمال، ادویات کو محفوظ رکھنے کے ناقص انتظام، علاج کی نگرانی کے فقدان اور اینٹی بایوٹکس کے غلط استعمال جیسے مسائل بھی صحت کے اداروں میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔

تنظیم نے محکمہ صحت سے سوال کیا کہ ان مسائل کی ذمہ داری کون لے گا اور فارماسسٹ کے پیشہ ورانہ کردار کو نظر انداز کر کے عوامی صحت کو خطرے میں کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی جانب سے اکثر نئی آسامیوں کا اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ان میں فارماسسٹ کے لیے ایک بھی نشست مختص نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال پالیسی کی سنگین ناکامی اور ہسپتالوں میں فارمیسی خدمات کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔

تنظیم نے یاد دلایا کہ اکتوبر 2025 میں مسلسل جدوجہد اور کوششوں کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی کابینہ نے فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی تھی۔ تاہم اس پالیسی کی منظوری کو پانچ سے چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان نے خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ صحت کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فارمیسی سروسز پالیسی پر فوری عمل درآمد شروع کیا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں فارماسسٹ کی آسامیوں کا اعلان کیا جائے۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر اس مدت کے اندر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو صوبے بھر کے فارماسسٹ اس ناانصافی کے خلاف بھرپور اور منظم احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے