لاہور جنرل ہسپتال میں منعقدہ آگاہی واک میں ماہرین نے بڑھتی ہوئی روزمرہ کی بگڑتی طرزِ زندگی، آلودہ ماحول، خوراک میں ملاوٹ اور غیر معیاری ادویات کو گردے کے امراض کے بڑھنے کی بڑی وجوہات قرار دیا اور عام لوگوں کو خبردار کیا کہ وقت پر احتیاطی اقدام نہ کرنے سے مسائل سنگین ہوسکتے ہیں۔ گردے کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے صاف پانی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کو لازمی قرار دیا گیا۔پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ اگرچہ گردے کے امراض مردوں میں بڑھ رہے ہیں مگر عطیہ دینے میں خواتین نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے کے عملے اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں تاکہ نوجوان نسل محفوظ رہے۔ انہوں نے اس برس کے عالمی پیغام کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی نگہداشت اور سیارے کے تحفظ کے ساتھ ہر فرد کے حق میں گردے کی صحت ضروری ہے۔پروفیسر برائے نیفرولوجی ڈاکٹر عبد الرحمن نے مزمن گردے کی بیماری کو خاموش قاتل قرار دیا اور بتایا کہ ابتدائی مراحل میں علامات دکھائی نہیں دیتیں اس لیے ذیابیطس اور بلند فشارِ خون کے مریضوں کو باقاعدگی سے گردے کے افعال کے ٹیسٹ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ پیچیدگیاں اور ڈائیلاسس سے بچا جا سکے۔ انہوں نے نمک کی مقدار کم کرنے، سگریٹ نوشی ترک کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کی بھی تاکید کی۔ماہرین نے واضح کیا کہ غیر ضروری ادویات سے اجتناب اور طبی مشورے کے بغیر ادویات نہ لینا گردے کو ناقابلِ واپسی نقصان پہنچا سکتا ہے، اسی لیے لوگ خود علاجی اور غیر مجاز طبی عملہ سے دور رہیں۔ صبح کے وقت چہرے اور پاوں میں سوجن، بھوک میں کمی، جھاگ دار پیشاب یا سانس میں دشواری جیسی علامات نظر آئیں تو فوراً طبی مشورہ لینا چاہیے۔آگاہی واک کے اختتام پر منعقدہ میڈیا بریفنگ میں پروفیسر فاروق افضل نے ڈاکٹروں کے نام نہ ہونے والے تداوی عملے اور جھوٹے علاج کرنے والوں سے خبردار کیا اور عوام سے اپیل کی کہ اپنی صحت کے بارے میں سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز پر گردے کی حفاظت، حفظانِ صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے پیغامات اٹھا رکھے تھے۔شرکاء میں پروفیسر شندانہ طارق، پروفیسر فائزہ اطہر، پروفیسر امنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، ڈاکٹر یاسر حسین، ڈاکٹر روشینہ انجم، ڈاکٹر ساجد، ڈاکٹر جاپھر حسین، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر محمد مقصود اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ سائمہ فتح کے علاوہ سینئر ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرا میڈیکل عملہ شامل تھے۔ واک میں شریک طبی عملے نے ابتدائی تشخیص، حفاظتی نگہداشت اور صحت مند طرزِ زندگی کے پیغامات کی تکرار کرتے ہوئے کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے پر زور دیا۔
