فارماسسٹ صحت کے ستون ہیں

newsdesk
6 Min Read
خیبرپختونخوا میں فارماسسٹ کی نظراندازی، پالیسی کی عدم نفاذی اور 2400 نئے عہدوں میں فارماسسٹ کو شامل نہ کیے جانے کی رپورٹ

کیا فارماسسٹ واقعی نظامِ صحت کا ایک اہم ستون ہیں؟

تحریر: ثاقب حسین

کسی بھی ملک کا نظامِ صحت بنیادی طور پر تین اہم ستونوں پر قائم ہوتا ہے: ڈاکٹر، نرسیں اور فارماسسٹ۔ ڈاکٹر بیماری کی تشخیص کرتے ہیں اور علاج تجویز کرتے ہیں، نرسیں مریضوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کی ذمہ داری نبھاتی ہیں جبکہ فارماسسٹ ادویات کے محفوظ، مؤثر اور درست استعمال کو یقینی بناتے ہیں۔ دنیا کے جدید نظامِ صحت میں فارماسسٹ مریضوں کی حفاظت، ادویات کے مؤثر انتظام اور علاج سے متعلق رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں صحت کے نظام میں فارماسسٹ کا مقام اب بھی تشویشناک حد تک نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ تعلیمی اور عالمی سطح پر اس پیشے کو نظامِ صحت کا لازمی حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں فارماسسٹ کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر فارماسسٹ واقعی نظامِ صحت کے بنیادی ستونوں میں شامل ہیں تو پھر صحت سے متعلق منصوبہ بندی اور بھرتیوں میں ان کی موجودگی کیوں نظر نہیں آتی؟ ہر سال ہزاروں طلبہ پانچ سالہ پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ اس دوران وہ فارماکولوجی، میڈیسنل کیمسٹری، فارماسیوٹکس، کلینیکل فارمیسی اور ادویات و مریضوں کی حفاظت سے متعلق کئی اہم مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاہم جب یہ فارغ التحصیل طلبہ عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ نظامِ صحت میں ان کے لیے منظم مواقع اور باقاعدہ بھرتیوں کا فقدان ہے۔

خیبر پختونخوا میں صورتحال اس نظراندازی کی واضح مثال پیش کرتی ہے۔ اکتوبر 2025 میں صوبائی کابینہ نے طویل جدوجہد اور ینگ فارماسسٹ کمیونٹی پاکستان کی کوششوں کے بعد پہلی مرتبہ فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی۔ اس پالیسی کی منظوری سے فارماسسٹ میں امید پیدا ہوئی کہ اب ان کے کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے گا اور ہسپتالوں میں فارمیسی سروسز کو نظامِ صحت کا حصہ بنایا جائے گا۔ تاہم پالیسی کی منظوری کو پانچ سے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود اس پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آتی۔ صرف پالیسی بنانا کافی نہیں ہوتا بلکہ حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب ان پر عملی طور پر عمل کیا جائے۔

حال ہی میں اطلاعات سامنے آئیں کہ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں بھرتیوں کے لیے تقریباً 2400 نئی اسامیوں کا خلاصہ اخراجات محکمہ خزانہ کو بھیجا گیا۔ ان اسامیوں میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور نرسوں کے عہدے شامل تھے۔ اگرچہ ان شعبوں کو مضبوط بنانا یقینا ضروری ہے، تاہم یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ان اسامیوں میں فارماسسٹ کے لیے ایک بھی نشست مختص نہیں کی گئی۔ اس فیصلے نے صوبے میں صحت سے متعلق منصوبہ بندی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ادویات علاج کا بنیادی حصہ ہوتی ہیں اور فارماسسٹ وہ ماہرین ہیں جو ادویات کے استعمال اور علاج کے عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ہسپتالوں میں فارماسسٹ کو نظر انداز کرنے سے ادویات کے محفوظ استعمال، دوا کے انتظام اور مؤثر علاج میں خلا پیدا ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں فارماسسٹ ہسپتالوں میں کثیرالجہتی طبی ٹیموں کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ مل کر ادویات کی غلطیوں کو روکنے، دواؤں کے ممکنہ باہمی اثرات کی نگرانی کرنے، علاج کے منصوبوں کو بہتر بنانے اور مریضوں کو ادویات کے محفوظ استعمال سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی علاج کے نتائج کو بہتر بناتی ہے اور صحت کے خطرات کو کم کرتی ہے۔ فارماسسٹ کے بغیر ہسپتال دراصل ادویات کے انتظام کے ماہرین سے محروم ہوتے ہیں، جس سے مریضوں کی حفاظت متاثر ہو سکتی ہے۔

فارماسسٹ کو مسلسل نظر انداز کرنا صرف روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ نظامِ صحت کے معیار کا بھی مسئلہ ہے۔ ہر سال ہزاروں تربیت یافتہ فارمیسی گریجویٹس عملی میدان میں آتے ہیں لیکن نظامِ صحت انہیں خدمات انجام دینے کے لیے مناسب مواقع فراہم نہیں کرتا۔ اس طرح نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ مجموعی طور پر نظامِ صحت بھی کمزور ہوتا ہے۔

اب خیبر پختونخوا حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف پالیسیوں کے اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ فارمیسی سروسز پالیسی پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ہسپتالوں اور صحت کے اداروں میں فارماسسٹ کو عملے کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر نظامِ صحت واقعی تین ستونوں — ڈاکٹر، نرسیں اور فارماسسٹ — پر قائم ہے تو پھر تینوں کو یکساں طور پر تسلیم کرنا اور نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔

کیونکہ جب ایک ستون کو نظر انداز کیا جائے تو پورا ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اور ایسا نظامِ صحت جو ادویات کی حفاظت کے ذمہ دار ماہرین کو نظر انداز کرے، دراصل مریضوں کی دیکھ بھال کو خطرے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے