دو بحران، ایک خطہ: مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک استحکام کیوں ضروری ہے
تحریر: تصدق گیلانی
عالمی نظام ایک مرتبہ پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سکیورٹی صورتحال نے بھی خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بظاہر یہ واقعات مختلف خطوں میں پیش آنے والے الگ الگ بحران معلوم ہوتے ہیں، تاہم وسیع جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ایک خطے میں پیدا ہونے والی عدم استحکام کی صورتحال دوسرے خطوں کو بھی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے والی اہم جغرافیائی پوزیشن رکھتے ہیں، ایسی پیش رفت پر گہری نظر رکھنا اور متوازن سفارت کاری اختیار کرنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔
ایران کی تیل سے متعلق تنبیہ اور عالمی توانائی کے خدشات
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے یہ انتباہ سامنے آیا کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو وہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں تک تیل کی رسد کو روک سکتا ہے۔ اگرچہ اس نوعیت کے بیانات تنازعات کے دوران اسٹریٹجک اشاروں کے طور پر دیے جاتے ہیں، تاہم یہ عالمی سیاست میں توانائی کی سلامتی کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اب بھی دنیا میں تیل کی فراہمی کا مرکزی خطہ ہے۔ اگر تیل کی ترسیل کے راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے فوری اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی تیل کی بڑی مقدار اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے اور وہاں عدم استحکام کا محض خدشہ بھی توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست معاشی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مجموعی معاشی استحکام کو متاثر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی خطے میں استحکام نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے اہم ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا اسٹریٹجک پس منظر
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دراصل ایک پیچیدہ اور طویل عرصے سے جاری اسٹریٹجک مقابلہ آرائی کی عکاسی کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ایران بیرونی دباؤ اور پابندیوں کو اپنی خودمختاری اور علاقائی کردار کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
ان مختلف نقطہ ہائے نظر نے باہمی عدم اعتماد اور کشیدگی کی فضا کو جنم دیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ طویل المدتی کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے تنازع کا پھیلاؤ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے، توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور انسانی مسائل میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ایسے حالات میں سفارت کاری، تحمل اور بین الاقوامی رابطہ کاری نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن مکالمے اور سفارتی ذرائع کی حمایت کرتا آیا ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان۔افغانستان سرحدی صورتحال
اسی دوران پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پیدا ہونے والی صورتحال نے علاقائی سکیورٹی کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر سرحد پار عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے جو اس کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی ہیں۔ مغربی سرحد پر استحکام پاکستان کی قومی ترجیحات میں شامل ہے۔
تاہم پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ افغانستان میں استحکام دراصل پاکستان اور پورے خطے کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں اور مشترکہ سرحد پر طویل مدتی امن دونوں کے مفاد میں ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ علاقائی چیلنجز کو صرف محاذ آرائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔
بدلتا ہوا جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بیک وقت کشیدگی کا ابھرنا عالمی سیاست میں وسیع تر تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہیں جبکہ علاقائی ممالک پیچیدہ سکیورٹی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں مقامی سطح کے تنازعات بھی وسیع عالمی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کے راستے، تجارتی راہداریوں اور سکیورٹی شراکت داریوں کے باعث مختلف خطے آپس میں زیادہ مربوط ہو چکے ہیں۔ اسی لیے خلیج میں ہونے والی پیش رفت جنوبی ایشیا کی سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے برعکس بھی۔
پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ان بدلتی ہوئی علاقائی حرکیات کے سنگم پر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ مقام پاکستان کو ایک طرف علاقائی رابطوں کے فروغ کا موقع فراہم کرتا ہے تو دوسری جانب استحکام کے فروغ کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔
آگے کا راستہ
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول واضح ہیں جن میں خودمختاری کا احترام، تنازعات کا پرامن حل، علاقائی تعاون اور معاشی استحکام شامل ہیں۔ موجودہ دور میں یہ اصول صرف سفارتی نظریات نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت بن چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، افغانستان کے ساتھ مسلسل رابطہ اور وسیع علاقائی تعاون موجودہ تناؤ کو بڑے تنازعات میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے نہایت ضروری ہوں گے۔
آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ موجودہ بحران مزید تصادم کی صورت اختیار کرتے ہیں یا مکالمے اور استحکام کی طرف پیش رفت ہوتی ہے۔
جب عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہو تو ذمہ دارانہ سفارت کاری اور اسٹریٹجک صبر ہی امن کے تحفظ کے مؤثر ترین ذرائع ثابت ہو سکتے ہیں۔
