اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران طے پایا جس میں کامسٹیک کے رابطہ کار جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے شرکت کی۔
اجلاس میں دونوں اداروں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں تحقیق اور علمی استعداد کو فروغ دینے کے لیے متعدد مشترکہ پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ مجوزہ منصوبوں کے تحت ہر سال مسلم اقلیتی برادریوں اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے محققین کے لیے پاکستان کی نمایاں جامعات میں تحقیق کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 200 سالانہ فیلوشپس دی جائیں گی۔
اسی طرح سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں کامسٹیک کے ممتاز محققین پروگرام کے تحت پاکستانی جامعات کے ماہرین اور اساتذہ کے 200 سالانہ دوروں کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے تعلیمی اداروں میں علمی خدمات انجام دے سکیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ رکن ممالک کی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی صلاحیت بڑھانے کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تعلیمی منظوری دینے والے اداروں کے لیے بھی ایک خصوصی پروگرام متعارف کرایا جائے گا تاکہ انہیں بین الاقوامی معیار اور بہترین طریقہ کار کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔
دونوں اداروں نے پاکستانی جامعات کی عالمی سطح پر نمایاں حیثیت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی غور کیا۔ اس سلسلے میں جامعات کے بین الاقوامی دفاتر کو مضبوط بنانے کے لیے ایک خصوصی صلاحیت سازی پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ان اقدامات پر عمل درآمد کے لیے کامسٹیک اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔
اجلاس میں کامسٹیک کے سی سی او ای اور آؤٹ ریچ کے فوکل پرسن اور رابطہ کار محمد مرتضیٰ نور بھی موجود تھے۔
