کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکاء کے ساتھ پولیس کی جانب سے ہونے والے تشدد اور گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے کے خلاف عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔حارث خلیق اور عورت مارچ کی منتظمہ ڈاکٹر فرزانہ باری نے قومی پریس کلب میں منعقدہ اعلامی نشست میں کہا کہ اسلام آباد میں مارچ پر امن تھا مگر ریاستی تشدد اور پولیس کے سخت رویے نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا۔ شرکاء کو حوالات میں بند کرکے جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا اور ان کے ساتھ نامناسب سلوک روا رکھا گیا۔شرکاء کی مدد کے لیے جب ساتھی مختلف تھانوں پر پہنچے تو انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا۔ اس دوران کم عمر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی ہوئی، بال کھینچے گئے اور کئی افراد کو ایک ہی لاک اپ میں اس طرح رکھا گیا کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ ایسے فعل ایک مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ڈاکٹر فرزانہ باری نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے عورت مارچ کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے اور سن دو ہزار اٹھارہ کے بعد باقاعدہ اجازت نامہ نہیں ملا۔ اس سال بھی ڈیڑھ ماہ پہلے اجازت نامہ کی درخواست دی گئی مگر کوئی جواب نہ دیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بطور شہری پرامن اجتماعات اور اظہارِ رائے کا آئینی حق حاصل ہے اور ایسے قوانین کو چیلنج کرنے کا حق شہریوں کا جمہوری حق ہے۔حلیمہ اظہر نے بتایا کہ گرفتار شدگان کی عمریں چودہ سال سے لے کر تہتر سال تک تھیں، جن میں تقریباً پینتیس مرد اور چوالیس خواتین شامل تھیں۔ گرفتار خواتین میں دو حاملہ خواتین بھی تھیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چودہ اور سولہ سال کی کم عمر لڑکیاں بھی بدسلوکی کا شکار ہوئیں۔گرفتاری کے دوران پولیس نے لوگوں کے موبائل فون اور ذاتی اشیاء ضبط کیں اور فون کے پاس ورڈ کھلوائے گئے جن کے بعد فون میں موجود پیغامات اور معلومات کو چیک کیا گیا۔ کمیشن نے اس عمل کو ذاتی آزادی اور رازداری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح خوف اور بے چینی پھیلاتے ہوئے خاص طور پر کم عمر افراد کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔خاتون صحافی فرحت فاطمہ نے بتایا کہ وہ کوریج کے لیے خواتین پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں اور اپنا تعارف کروانے کے باوجود انہیں لاک اپ کے سامنے لے جاکر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، موبائل فون چھیننے کی کوشش کی گئی اور بعد ازاں انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں کچھ افسران نے ان پر ریاست کے خلاف کام کرنے اور تشدد آمیز الزامات عائد کیے۔کمیشن نے واضح مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی آزادانہ، فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور جو افسران تشدد اور بدسلوکی میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حقوقِ انسانی کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور عدالت میں رٹ پٹیشن کے ذریعے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔یہ واقعہ عورت مارچ کے بنیادی حق، اجتماع اور اظہارِ رائے کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا اور کمیشن نے معاشرتی وقار اور حقوقِ انسانی کے تحفظ کے لیے تادیبی اور قانونی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
