آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو کی تقرری پر سوالات، حکام خاموش
ندیم تنولی
اسلام آباد: اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر کی تقرری کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ عہدہ باقاعدہ طور پر مشتہر کیے جانے کے باوجود بظاہر مسابقتی طریقہ کار کے تحت تقرری کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ 24 نومبر 2025 کو قومی اخبارات میں مشتہر کیا گیا تھا جس میں صحت عامہ، اسپتالوں کے انتظام، ضابطہ کاری، قانون، مالیات یا متعلقہ شعبوں میں نمایاں تجربہ رکھنے والے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اشتہار کے مطابق یہ تین سالہ معاہدے پر مبنی عہدہ تھا جس کی رپورٹنگ بورڈ آف اتھارٹی کو ہونا تھی۔
تاہم ڈاکٹر محمد زعیم ضیا کے بطور چیف ایگزیکٹو منصب سنبھالنے کے بعد مبصرین کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ تقرری اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ایکٹ 2018 میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے یا نہیں۔
قانون کی دفعہ 12 کے تحت چیف ایگزیکٹو کی تقرری کا اختیار بورڈ آف اتھارٹی کو حاصل ہے تاکہ تقرری میرٹ کی بنیاد پر ہو اور ادارے کی خودمختاری برقرار رہے۔ قانونی ماہرین نے قانون کی دفعہ 13 (ب) کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جس کے مطابق وفاق یا کسی صوبے کی سرکاری ملازمت میں موجود یا عوامی فنڈز سے تنخواہ لینے والا شخص چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا۔
اس معاملے نے اتھارٹی کی انتظامی تاریخ کو بھی دوبارہ زیر بحث لا دیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق سابق بورڈ آف اتھارٹی کی مدت مئی 2023 میں مکمل ہو گئی تھی جبکہ اس وقت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر قائد سعید کی مدت جون 2023 میں ختم ہوئی، تاہم وہ مبینہ طور پر دسمبر 2024 تک عہدے پر برقرار رہے۔ اس دوران اتھارٹی بغیر قانونی بورڈ کے کام کرتی رہی۔
بعد ازاں اکتوبر 2024 میں نیا بورڈ آف اتھارٹی تشکیل دیا گیا جس کے ساتھ تقریباً چودہ ماہ پر محیط انتظامی خلا ختم ہوا۔ تازہ ترین خالی آسامی دسمبر 2025 میں ڈاکٹر سید احمد رضا کاظمی کے استعفے کے بعد پیدا ہوئی جس کے بعد چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے لیے اشتہار جاری کیا گیا تھا۔
اس معاملے پر وضاحت حاصل کرنے کے لیے اس نمائندے نے وزارت قومی صحت خدمات کے ترجمان ساجد شاہ اور وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری کامران انصاری کو سوالات ارسال کیے جن میں تقرری کی قانونی بنیاد اور یہ استفسار شامل تھا کہ آیا اشتہار کے تحت جاری کردہ بھرتی کا عمل مکمل کیا گیا ہے یا نہیں۔
اسی نوعیت کے سوالات آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد زعیم ضیا کو بھی بھیجے گئے جن میں پوچھا گیا کہ آیا وہ مستقل تقرری، ڈیپوٹیشن یا اضافی چارج کے تحت اس عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کیا بورڈ آف اتھارٹی نے آئی ایچ آر اے ایکٹ کے مطابق اس تقرری کی باضابطہ منظوری دی ہے۔
تاہم خبر فائل کیے جانے تک وزارت قومی صحت خدمات یا آئی ایچ آر اے کے حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف ایگزیکٹو کی تقرری کے عمل اور اس کے قانونی پہلوؤں سے متعلق شفاف وضاحت عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے کیونکہ آئی ایچ آر اے وفاقی دارالحکومت میں صحت کے معیار اور طبی اداروں کی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔
Read in English: Questions Raised Over IHRA CEO Appointment as Officials Remain Silent
Copied From: https://minutemirror.com.pk/questions-raised-over-ihra-ceo-appointment-process-518263/

