ڈرگ کنٹرول بورڈ نے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے بعد پانچ مختلف ادویات کے مخصوص بیچز کو جعلی اور غیر معیاری قرار دے کر ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہڈیوں اور کیلشیم کے لیے استعمال ہونے والی ملٹی وٹامنز اسلام آباد کی ایک کمپنی کے مخصوص بیچ میں جعلی پائی گئی جبکہ کراچی میں تیار ہونے والا معروف کھانسی کا سیرپ ملاوٹ شدہ اور معیار کے مطابق نہیں نکلا۔ٹیسٹنگ میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ لاہور میں تیار کیے جانے والے درد کے ایک مخصوص انجیکشن میں خطرناک ذرات موجود تھے جن کے انسانی جان کے لیے خطرات ہوسکتے ہیں اور دو جانوروں کے استعمال کے انجیکشنز میں اصل اجزاء کی مقدار معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ ان تمام معاملات میں متعلقہ بیچز میں معیاری تقاضے پورے نہ ہونے کا واضح ثبوت ملا۔محکمہ صحت پنجاب نے ڈرگ کنٹرول بورڈ کے مراسلے پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ بیچز کو میڈیکل اسٹورز سے فوری طور پر واپس منگوانے کا حکم جاری کیا ہے اور اس بات کی وارننگ بھی دی گئی ہے کہ جو اسٹورز فروخت جاری رکھیں گے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس حکم کا مقصد عوامی صحت کے خطرات کو فوری طور پر کنٹرول کرنا بتایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تیار شدہ ملٹی وٹامنز کا مخصوص بیچ ہڈیوں اور کیلشیم کے لیے مبینہ طور پر جعلی پایا گیا، جبکہ کراچی میں تیار ہونے والا کھانسی کا معروف سیرپ ملاوٹ کا شکار رہا۔ لاہور کے درد کے انجیکشن میں ذرات کی موجودگی کے باعث طبی طور پر سنگین نتائج کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مزید برآں جانوروں کے لیے بنائے گئے دو انجیکشنز بھی لاہور اور کراچی کی کمپنیوں کی طرف سے تیار کردہ بیچز میں معیار سے کم اصل اجزاء کی حامل پائے گئے۔اہلِ صحت اور حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ادویات خریدتے وقت بیچ نمبرز لازماً چیک کریں اور صرف مستند فارمیسیوں سے ادویات حاصل کریں۔ اس ہدایت پر زور دیا گیا ہے کہ جعلی ادویات کے استعمال سے طبی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اس لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔ڈرگ کنٹرول بورڈ اور محکمہ صحت پنجاب نے عوامی اطلاع کے علاوہ ان بیچز کی تفصیلی چھان بین اور متاثرہ اسٹورز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہوا ہے تاکہ آئندہ ایسے خطرات کو روکا جا سکے۔ حکومت نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ اولین ترجیح ہے اور جعلی ادویات کے خلاف سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی۔
