پنجاب میں اے آئی انقلاب کی تیاری، ڈیٹا والٹ پاکستان کی صوبائی حکومت سے تعاون کی پیشکش
لاہور: پاکستان کے پہلے خودمختار اے آئی ڈیٹا سینٹر ڈیٹا والٹ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات، علی مصطفیٰ ڈار سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ ملاقات میں آفس آف اے آئی پنجاب کے تحت صوبے میں اے آئی ٹرانسفارمیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے باہمی تعاون کی تجاویز پیش کی گئیں۔
ڈیٹا والٹ کے وفد میں شریک بانی و چیف آپریٹنگ آفیسر سید ذیشان علی، بورڈ ایڈوائزر مدثر سلیم ملک اور چیف انوویشن آفیسر احمد حمدان شامل تھے۔
چیف آپریٹنگ آفیسر سید ذیشان علی نے پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا خودمختار اے آئی انفراسٹرکچر صوبائی حکومت کے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دے سکتا ہے جس کے تحت پنجاب کو جنوبی ایشیا کا نمایاں اے آئی حب بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
علی مصطفیٰ ڈار، جو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد ہیں، کو رواں ماہ اس نئے وزارتی سطح کے عہدے پر اعزازی بنیادوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں جدت پر مبنی پالیسی سازی، ٹیکنالوجی کے فروغ اور صوبے بھر میں اے آئی پر مبنی اقدامات کا نفاذ شامل ہے۔ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری کے حامل علی مصطفیٰ ڈار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی سے لیس صوبہ بنایا جائے گا۔
120 ملین سے زائد آبادی والے صوبہ پنجاب میں خودمختار اے آئی انفراسٹرکچر حکومتی نظام، صحت، تعلیم، زراعت اور امن و امان سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کر سکتا ہے۔
ڈیٹا والٹ پاکستان، جس کی بنیاد سی ای او مہوش سلمان علی نے رکھی، تیزی سے پاکستان کے خودمختار اے آئی ماحولیاتی نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ کراچی میں قائم کمپنی ملک کا پہلا اے آئی ریڈی ڈیٹا سینٹر چلا رہی ہے جو این وی آئی ڈی آئی اے کے انٹرپرائز گریڈ جی پی یوز سے لیس ہے اور جی پی یو از اے سروس اور سوورین کلاؤڈ سہولیات فراہم کرتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں کمپنی نے کئی اہم شراکت داریاں بھی کی ہیں۔ ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ اشتراک سے ملک کا پہلا مقامی طور پر ہوسٹڈ اے آئی کلاؤڈ متعارف کرایا گیا، جس سے حساس قومی ڈیٹا کو ملک کے اندر محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا گیا۔ امریکی کمپنی رافے سسٹمز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پاکستان کا پہلا سوورین اے آئی کلاؤڈ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی ڈیٹا سینٹر آپریٹر ڈیٹا روکس کے ساتھ معاہدہ اے آئی انفراسٹرکچر میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔
