اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی زیرِ صدارت حالیہ وائس چانسلرز ملاقات میں جامعات کے سربراہان نے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے جامع حکمتِ عملی طے کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ملاقات میں اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں کی چالیس جامعات کے سربراہان شریک تھے اور اُنہوں نے قلیل مدت، وسط مدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی۔کمیٹیاں جامعات کے سربراہان پر مشتمل ہوں گی اور اُنہیں جامع سفارشات مرتب کر کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو پیش کرنا ہوں گی تاکہ تعلیمی نظام میں معتدل اصلاحات متعارف کروائی جا سکیں۔ ان سفارشات میں مہارتوں پر مبنی نصاب کا جامع جائزہ، ادارہ جاتی خودمختاری میں اضافہ اور صنعت، حکومت اور اکیڈیمیا کے اشتراک کو مضبوط کرنے کے طریقے شامل ہوں گے۔ اسی ضمن میں اصلاحی روڈ میپ کی بنیادیں مرتب کی جائیں گی تاکہ جامعات قومی ترقی میں موثر کردار ادا کریں۔ایک کلیدی ترجیح نئی منظوری کونسلوں کی تشکیل ہے جو ابھرنے والے شعبوں کے معیار وضع کریں گی۔ ان شعبوں میں نفسیات اور ذہنی صحت، مصنوعی ذہانت، بحری علوم اور قابلِ تجدید توانائی شامل ہیں تاکہ نئے مضامین کی تربیت اور تسلیم شدہ نصاب کے لیے مستقل فریم ورک قائم ہو سکے۔ اسی طرح اساتذہ کی تربیت اور ٹینور ٹریک نظام کی معاوضہ ڈھانچے پر حکمتِ عملی کے تحت نظرِثانی کر کے اعلیٰ استعداد رکھنے والے اراکینِ علمی کو برقرار رکھنے اور ماہر عملے کی ہجرت روکنے کے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ملاقات میں یونیورسٹیوں کے ادارہ جاتی نظم و نسق اور معیار کے چیلنجز پر گہری گفتگو ہوئی۔ حاضرین نے مہارتوں پر مبنی تعلیم کی حمایت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیمی پروگراموں کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ تحقیق کے لیے فنڈنگ میں اضافہ اور تحقیق کے نتائج کو فروغ دینے کے لیے حکومت، صنعت اور اکیڈیمیا کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے۔ ان سفارشات میں ملکی و بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دے کر یونیورسٹیوں کی بین الاقوامیت بھی شامل رہے گی۔وائس چانسلرز نے طلبہ کے کیریئر راستوں کے انتخاب کے لیے ایک مرکزی رہنمائی ذخیرہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ طلبہ اپنی پیشہ ورانہ راہیں آسانی سے جان سکیں۔ اس کے علاوہ آڈٹ اور خریداری کے عمل کو سادہ بنانے، دوہری ڈگری پروگراموں کے فروغ اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق طلبہ کے جانچ کے لیے معیاری طریقۂ کار اپنانے پر زور دیا گیا۔ یہ اقدامات عملی طور پر جامعات کو زیادہ لچکدار اور قابلِ عمل بنانے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ملک کا مستقبل اعلیٰ تعلیم کی ترقی سے جڑا ہوا ہے اور موجودہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی کم فی طالب علم عوامی خرچ کے باوجود قابلِ قدر ہے۔ چیئرمین نے وائس چانسلرز کو یہ یاد دلایا کہ ان کی ذمہ داریاں انتہائی وسیع اور اہم ہیں کیونکہ یونیورسٹیاں علم پیدا کرنے، نوجوانوں کی تربیت اور قومی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔چیئرمین نے طالبِ علموں کے اندراج کے تناسب کو بڑھانے، گریجویٹس کے معیار کو بہتر بنانے اور فارغ التحصیل طلبہ کے متعلق ڈیٹا محفوظ رکھنے کے نظام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اُن کی ملازمت پذیری کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ ان اقدامات کے ذریعے یونیورسٹیاں جدید تکنیکی اوزار کے ساتھ طلبہ کو آراستہ کر کے روزگار کے مواقع بڑھانے میں کردار ادا کریں گی۔اجلاس میں قرار پایا کہ کمیٹیاں جلد از جلد اپنا کام مکمل کریں گی اور سفارشات مرتب کر کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو پیش کریں گی تاکہ ایک مربوط اصلاحی روڈ میپ کے تحت عملی اقدامات شروع کیے جا سکیں جن سے تعلیمی معیار، فیکلٹی کی پائیداری اور تحقیقی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔
