غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کا پی ایم ڈی سی کی نئی پالیسی پر تحفظات، اضافی امتحانات اور ریفنڈ میں تاخیر پر تشویش
اسلام آباد: غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) نے Pakistan Medical and Dental Council (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے حالیہ متعارف کرائی گئی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ضوابط کے باعث نوجوان ڈاکٹروں کو پیشہ ورانہ رکاوٹوں، مالی بوجھ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
ایف ایم جی کمیونٹی کے مطابق نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت ہاؤس جاب شروع کرنے سے قبل نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) اسٹیپ ون اور اسٹیپ ٹو پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ معیار کو برقرار رکھنے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم پالیسی کے اچانک نفاذ کے باعث تقریباً سات سے آٹھ ماہ کی تاخیر ہوئی، جس سے امیدواروں کو پیشہ ورانہ جمود اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید برآں، این آر ای کے تحریری اور کلینیکل دونوں مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کے باوجود بعض اداروں کی جانب سے ہسپتال سطح پر اضافی انڈکشن امتحان لیا جا رہا ہے، جسے ایف ایم جیز نے امتحانی عمل کی غیر ضروری تکرار قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب علمی اور عملی صلاحیت کا جائزہ پہلے ہی لیا جا چکا ہے تو مزید امتحانات معیار میں بہتری کے بجائے پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔
مالی اعتبار سے بھی یہ عمل بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ این آر ای اسٹیپ ون کی فیس 20 ہزار روپے، اسٹیپ ٹو کی فیس 20 ہزار روپے، عارضی لائسنس (پی آر ایم پی) کی فیس 10 ہزار روپے جبکہ اضافی ہسپتال امتحان کی فیس 10 سے 20 ہزار روپے تک ہے۔ اس طرح مجموعی اخراجات 60 سے 70 ہزار روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں، جس میں تیاری اور دیگر اخراجات شامل نہیں۔
ایف ایم جی کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو این آر ای کو ہاؤس جاب کے لیے کافی قرار دیا جائے یا این آر ای پاس امیدواروں کے لیے ہسپتال سطح کے امتحانات ختم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہاؤس جاب الاٹمنٹ کے لیے واضح اور مقررہ ٹائم لائن جاری کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
دوسری جانب تقریباً 700 ایف ایم جیز نے نظرثانی شدہ پالیسی سے قبل عارضی ہاؤس جاب لائسنس کے لیے فی کس 10 ہزار روپے جمع کرائے تھے۔ پالیسی میں تبدیلی کے بعد پی ایم ڈی سی کی جانب سے رقم واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود رقوم واپس نہیں کی جا سکیں۔
کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری آڈٹ اور ریفنڈ کی صورتحال سے متعلق عوامی اپ ڈیٹ جاری کی جائے اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر رقم واپسی کا واضح شیڈول دیا جائے۔
ڈاکٹر رفیع شیر اور ایف ایم جی کمیونٹی کے دیگر نمائندگان نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف و منصفانہ حل یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقررہ امتحانات پاس کرنے کے بعد وہ تمام پیشہ ورانہ معیار پر پورا اترتے ہیں، لہٰذا پالیسیوں کا مساوی اور غیر امتیازی اطلاق ہی میرٹ اور صحت کے نظام کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔
