ایس ایم اے کے خاتمے کی جانب بڑا قدم: اسلام آباد میں “SMA اینڈ گیم 2030” کا آغاز، خیبرپختونخوا حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان

newsdesk
4 Min Read
ریڑھ کی پٹھوں کی بیماری ختم کرنے کے لیے اینڈگیم 2030 روڈمیپ، جینیاتی چھان بین، نوزائیدہ جانچ اور مستقل علاجی فنڈ کی تجویز پیش کی گئی

ایس ایم اے کے خاتمے کی جانب بڑا قدم: اسلام آباد میں “SMA اینڈ گیم 2030” کا آغاز، خیبرپختونخوا حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان

اسلام آباد: ملک میں جینیاتی بیماری اسپائنل مسکولر ایٹروفی (SMA) کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں Strive Eradication of Disability Foundation (اسٹرائیو) نے موون پک ہوٹل سینٹورس اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران اپنا جامع روڈ میپ “SMA Endgame 2030” پیش کر دیا۔ تقریب کا عنوان “From Possibility to Policy: Shaping the SMA Future” رکھا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں ایس ایم اے کی روک تھام، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کے لیے قومی پالیسی کی تشکیل تھا۔

تقریب میں خیبرپختونخوا کے وزیر صحت اور ہیلتھ سیکٹر ریفارمز کے سربراہ ڈاکٹر سید اعجاز علی شاہ سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات، ماہرین طب اور مخیر حضرات نے شرکت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس جینیاتی مرض کے خلاف ریاستی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

اسٹرائیو کے بانی اور سی ای او محمد یاسر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ معذوری کو محض تقدیر قرار دے کر نظرانداز کرنا معاشرتی غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بخار ایک انفیکشن اور پیاس ایک حیاتیاتی ضرورت ہے تو معذوری بھی ایک حیاتیاتی نقص ہے جس کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کئی بچے صرف علاج کی عدم دستیابی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، حالانکہ بروقت ادویات سے ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ روک تھام، تشخیص اور علاج سے متعلق باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

وزیر صحت خیبرپختونخوا نے اعتراف کیا کہ اسٹرائیو کی کاوشوں سے قبل انہیں اس بیماری کی شدت کا مکمل اندازہ نہیں تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے ذریعے ایس ایم اے جیسے مہنگے امراض کے علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سے مشاورت کر کے طویل المدتی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

اسٹرائیو کے پروگرام منیجر وسیم رفیق نے بتایا کہ ادارہ اب تک 16 مریضوں کے لیے 31 علاجی سائیکلز اسپانسر کر چکا ہے، جن پر فی سائیکل تقریباً 11 لاکھ روپے لاگت آئی۔ “اینڈ گیم 2030” منصوبے کے تحت شادی سے قبل جینیاتی اسکریننگ، نوزائیدہ بچوں کی اسکریننگ کو ادارہ جاتی شکل دینا اور انفرادی چندہ مہمات کے بجائے ایک مستقل فنڈ کا قیام شامل ہے۔

ماہرین طب نے خبردار کیا کہ پاکستان میں ہر 54 میں سے ایک فرد ایس ایم اے کا کیریئر ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹائپ ون ایس ایم اے میں چھ ماہ کی عمر تک 95 فیصد موٹر نیورونز ضائع ہو سکتے ہیں، اس لیے فوری جینیاتی ٹیسٹنگ ناگزیر ہے۔ ڈاکٹروں نے جدید دوا رِسڈیپلام کے مثبت نتائج بھی پیش کیے، جس سے کئی بچوں میں نمایاں بہتری آئی اور وہ بیٹھنے اور بولنے کے قابل ہوئے۔

تقریب میں مخیر حضرات نے بھی بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ معروف سماجی رہنما سلیم الدین فیروز نے کراچی میں اسٹرائیو کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا اعلان کیا، جبکہ دیگر مقررین نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مریضوں کی نشاندہی اور فنڈنگ کے شفاف نظام پر زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بروقت تشخیص، مؤثر پالیسی سازی اور حکومتی سرپرستی کے ذریعے ایس ایم اے کو پاکستان میں موت کا پروانہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے