وزارت برائے حقوقِ انسانی نے انسانی حقوق کے عزم کی توثیق

newsdesk
3 Min Read
جنیوا میں پاکستان نے انسانی حقوق کے لیے عزم دہرایا، خواتین کے حقوق، مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا

جنیوا میں منعقدہ اکسٹھویں اجلاس اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں وزارت برائے حقوقِ انسانی کے سکریٹری عبدالخالق شیخ نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملکی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی حقوق کسی خوشگوار وقت کی اشیاء نہیں بلکہ تناؤ، جھڑپوں اور پیچیدہ عالمی چیلنجز کے باوجود محفوظ رکھے جانے چاہئیں۔سکریٹری نے کہا کہ بطور انتخابی رکن پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوقی فریم ورک کے ساتھ تعمیری انداز میں تعاون جاری رکھے گا اور عالمی سطح پر گفت و شنید اور کثیرالطرفہ کوششوں کو فروغ دینے کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے بغیر دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔اجلاس میں دہشت گردی اور انسانی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور خاص طور پر افغانستان، مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر توجہ مبذول کرائی گئی۔ سکریٹری نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے معاملے میں اسلام کو بہانہ بنا کر حقوق کی پامالی ناقابلِ قبول ہے اور اس کی فوری روک تھام ضروری ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے انہوں نے دوہراتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت خرید و فروخت کی چیز نہیں اور وہاں کے باسیوں کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے بنیادی حقوق دلوانے تک پاکستان اپنے موقف پر قائم رہے گا۔ فلسطین کے بارے میں بھی سکریٹری نے انسانی بنیادوں پر بقا کی کشمکش اور بگڑتی ہوئی صورتحال سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ مذہبی تعصب خصوصاً مسلم مخالف رویوں کی روک تھام کے لیے اجتماعی اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان نے نفرت، امتیاز اور معاشرتی عدم مساوات کے خلاف مشترکہ کوششوں کی اپیل کی تاکہ متاثرہ برادریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔آخر میں سکریٹری نے واضح کیا کہ پاکستان مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے تحت انسانی حقوق کے عالمی معیار کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور وہ عالمی فورمز میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے