اوورسیز پاکستانی ڈاکٹر حنا اعوان نے راولپنڈی میں اپنی کمرشل پراپرٹی پر مبینہ طور پر مسلح عناصر کے زبردست قبضے کے خلاف اعلیٰ حکام بشمول وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس واقعے سے نہ صرف ان کی جائیداد متاثر ہوئی بلکہ خاندان کے لوگوں کو جسمانی زخمی بھی کیا گیا۔ڈاکٹر حنا نے بتایا کہ ان کے شوہر نے جون ۲۰۲۱ء میں راولپنڈی کے علاقے رنگ روڈ چوہڑہڑپال میں ایک پلاٹ قانونی طور پر خریدا اور وہاں کار ورکشاپ قائم کی، جس میں کاروبار شروع کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے۔ ساتھ ہی نایاب جانوروں کا قانونی ذخیرہ بھی رکھا گیا تھا۔ کاروبار ٹھپ ہونے کے بعد ۲۰۲۳ء میں ورکشاپ بند کر کے متعلقہ مشینری محفوظ کردی گئی اور وہ بیرون ملک چلے گئے، جبکہ جانوروں کا کاروبار بطور فرنٹ بزنس جاری رہا۔ڈاکٹر حنا کے مطابق تقریباً اسی احاطے میں ان کے بھتیجے کی کمپنی کا دفتر بھی قائم تھا جہاں مستقل طور پر ملازم فیض احمد آصف بٹ سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ جنوری ۲۰۲۶ء کو رات تقریباً گیارہ بجے کے قریب تیس سے چالیس مسلح افراد اچانک حملہ آور ہوئے، جن کے نام بعد ازاں راجہ ثاقب، عرفان اللہ جان اور شعیب عباسی بتائے گئے۔ حملہ آوروں نے موجود افراد پر تشدد کیا، کسی کس چیز کو زبردستی چھین لیا گیا اور ایک شخص کے طبی سرٹیفکیٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں سخت چوٹیں آئیں۔متاثرہ پاکستانیز نے مزید الزام لگایا کہ حملے کے بعد پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے مگر انہوں نے نہ تو حفاظت فراہم کی اور نہ ہی حملہ آوروں کو روکا، بلکہ ہمیں پولیس اسٹیشن نصیرآباد جانے کی ہدایت کی گئی۔ پولیس اسٹیشن میں جب حقائق اور قانونی دستاویزات پیش کی گئیں تو متعلقہ مسلح افراد جھوٹی ملکیت کا دعویٰ کر رہے تھے، اور پولیس سے بظاہر تعاون کے باعث ہماری بات سنی نہیں گئی، جس سے قبضہ مافیا اور پولیس کے مداخلت کے شبہات پیدا ہوئے۔پولیس اسٹیشن کے اندر راجہ ثاقب نے کھلے عام متاثرہ خواتین کو دھمکیاں دیں اور انہیں سنگین نتائج سے ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے متاثرہ خاندان کو ان کے احاطے سے باہر نکال کر گیٹ کو باہر سے تالہ لگا دیا، اور اب وہاں عثمان بلال نامی شخص راجہ ثاقب کی ہدایات پر دیگر افراد کے ہمراہ مقیم ہے۔ ڈاکٹری نے اس ضمن میں چوہدری خالد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا نام بھی لیا اور کہا کہ حالات سنگین ہیں۔ڈاکٹر حنا اعوان نے بتایا کہ انہوں نے ہر ممکن اتھارٹی سے رجوع کیا جن میں آپریشنز، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور وزیراعظم شکایات سیل شامل ہیں مگر شکوہ شکایت پر مناسب توجہ نہ دی گئی اور انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی کمرشل پراپرٹی فوراً بازیاب کرائی جائے، چوری شدہ اشیاء واپس دلائی جائیں اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کے ذریعے قرار واقعی سزا دی جائے۔ڈاکٹر حنا نے زور دے کر کہا کہ اگر حکام نے مناسب کارروائی نہ کی تو وہ انصاف کے حصول کے لیے مزید قانونی اور آئینی راستوں کا سہارا لیں گی۔ انہوں نے عوامی اور سرکاری سطح پر ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں اور متاثرین کو تحفظ اور انصاف فراہم کریں۔
