سول سوسائٹی کی صحت ِعامہ پالیسی کے خلاف سفارتی لابنگ کی مذمت

newsdesk
5 Min Read

سول سوسائٹی کی صحت ِعامہ پالیسی کے خلاف سفارتی لابنگ کی مذمت
صحت عامہِ پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت پر امریکی کونسلر سے معذرت کا مطالبہ

اسلام آباد — پاکستان میں سول سوسائٹی تنظیموں، ماہرینِ صحت اور عوامی صحت کے حامیوں نے اسلام آباد میں امریکی کونسلر پر مشتمل ایک وفد اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی سیکریٹری کے درمیان حالیہ ملاقات کی سخت مذمت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات کے دوران امریکی اہلکار نے الٹرا پراسیسڈ مصنوعات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) سے متعلق پاکستان وزارتِ صحت کی شواہد پر مبنی تجویز کے خلاف لابنگ کی — جو عوامی صحت کے تحفظ اور غیر متعدی امراض (NCDs) کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے ایک نہایت اہم اقدام ہے۔
غیر متعدی امراض — جن میں دل کے امراض، ذیابیطس، کینسر اورسانس کی بیماریاں شامل ہیں — اب پاکستان میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ غیر صحت بخش غذائیں اور الٹرا پراسیسڈ خوراک اور مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال اس بحران کے بڑے محرکات ہیں۔ پاکستان میں غیر متعدی امراض کی اجہ سے روزانہ 2400 سے زائد لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور تقریباً ہر دس میں سے چھ اموات غیر متعدی امراض کے باعث ہوتی ہیں پاکستان میں ہر ایک منٹ کے بعدہارٹ اٹیک ہو رہا ہے۔1100 لوگ روزانہ ذیابیطس سے مطلق بیماریوں سے مر رہے ہیں۔، جو ایک سنگین قومی عوامی صحت ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان صرف ذیابیطس پر سالانہ تقریباً 2.6 ارب امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے — جو ملک کو ملنے والی آئی ایم ایف کی قسط سے تقریباً دوگنا ہے۔ جس سے خاندانوں، صحت کے نظام اور قومی معیشت پر بے پناہ دباؤ پڑتا ہے اورمعاشی اور معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے قومی وزارتِ صحت، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) نافذ کرنے کی سفارش کی ہے، جو ایک سادہ اور شواہد پر مبنی حل ہے۔ یہ لیبل صارفین کو واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں کہ ان مصنوعات میں چینی، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کی مقدار حد سے زیادہ ہے۔ عالمی شواہد سے ثابت ہے کہ FOPWL صارفین کو بہتر غذائی انتخاب میں مدد دیتا ہے، مضر غذائی اجزاء کے استعمال میں کمی لاتا ہے، اور صنعت کو مصنوعات کی اصلاح کی جانب راغب کرتا ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH)، سول سوسائٹی اور وزارتِ صحت نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے لازمی FOPWL کے نفاذ کی بھرپور وکالت کی ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت پہلے ہی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو قومی مفاد میں اس پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایت دے چکی ہے۔جس پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی ٹیکیکل کمیٹی نے انہیں بتایا کہ اس قانون کے نفاذ کا عملی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
اس پس منظر میں، تجارتی مفادات کے حق میں پالیسی کو مؤخر یا کمزور کرنے کے لیے مبینہ سفارتی لابنگ نہایت تشویشناک ہے۔ عوامی صحت سے متعلق ضوابط، جن کا مقصد جانوں کا تحفظ ہے، انہیں کارپوریٹ مفاد یا بیرونی اثر و رسوخ کا نشانہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ ایسی کارروائیاں پاکستان کے خودمختار پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔یہ امر بھی تضاد کا مظہر ہے کہ جہاں امریکہ اپنے ہاں فرنٹ آف پیک غذائی لیبلنگ کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، وہیں اس کے سفارتی نمائندے مبینہ طور پر پاکستان میں اسی نوعیت کے عوامی صحت کے اقدامات کی مخالفت کر رہے ہیں۔
سول سوسائٹی حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے کونسلر کی اس نامناسب حرکت کا نوٹس لیں اور ا سلام آباد میں امریکی کونسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کی عوامی وضاحت کریں اور پاکستان کی خودمختار عوامی صحت پالیسی سازی میں کسی بھی مداخلت پر معذرت کریں۔
پاکستان کی سول سوسائٹی اور ماہرینِ صحت شواہد پر مبنی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں، تاکہ صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، غذائی عوامل سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کمی لائی جا سکے، اور قومی عوامی صحت کو ہر قسم کے بیرونی یا تجارتی دباؤ پر ترجیح دی جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے