وزیرِتعلیم نے اسلام آباد میں ہر بچے کی شمولیت مہم شروع کی

newsdesk
4 Min Read
وفاقی وزیرِتعلیم نے اسلام آباد میں 'کوئی بچہ پیچھے نہ رہے' مہم کا آغاز کیا، تین سال میں بچوں کی شمولیت یقینی بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا

وفاقی وزیرِتعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ‘کوئی بچہ پیچھے نہ رہے’ کے تحت ایک وقت معین مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا ہے جس کا مقصد اسلام آباد کے تمام بے سکول بچوں کو دوبارہ اسکول میں شمولیت دلوانا اور پائیدار معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ مہم وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی سربراہی میں چلائی جائے گی اور آئینی ذمہ داری آرٹیکل 25اے کے تحت تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانے کے عزم کی عکاس ہے۔مہم کو ایک آپریشنل اور پیمائشی منصوبہ قرار دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حکومت زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لا کر ادارہ جاتی ہم آہنگی مضبوط کرے گی اور نئی حکمتِ عملیاں متعارف کرائے گی تاکہ غربت، سماجی رکاوٹیں، معذوری یا دیگر وجوہات کی بنا پر کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔ اس مقصد کے لیے تین سال کے اندر زیادہ سے زیادہ بچوں کی شناخت اور اسکول میں واپسی کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بچوں کی شمولیت کو برقرار رکھنے اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے پر خاص زور دیا گیا ہے۔وفاقی عملدرآمد منصوبہ برائے بے سکول بچوں 2025-2030 کے تحت اسلام آباد میں گھریلو سطح پر مکمل شناخت اور نقشہ سازی کی جائے گی تاکہ یونین کونسل سطح پر بے سکول بچوں کا درست اندراج ممکن ہو۔ مہم کے تحت دوسری شفٹوں میں اضافہ، تیز رفتار تعلیمی پروگرام اور متبادل تعلیمی راستے بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ اسکولوں کی سعی پذیر گنجائش بڑھ سکے اور بچوں کو معیارِ تعلیم تک رسائی ملے۔ بچوں کی شمولیت کیلئے یہ اقدامات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔شفافیت اور جواب دہی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور حقیقی وقت کی نگرانی کے نظام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ پیش رفت کی پیمائش، ریکارڈ کی جانچ اور ذمہ داران کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ ممکن ہو۔ والدین، کمیونٹی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شرکاء کو بھی مہم میں شامل کر کے مشترکہ احتساب اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا۔وزیر نے کہا کہ یہ محض اعلان نہیں بلکہ عملی اور قابلِ پیمائش عزم ہے اور حکومت ہرممکن کوشش کرے گی کہ داخلہ، برقرار رہنا اور معیاری سیکھنے کے نتائج یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ مہم کا مرکز بچوں کی شمولیت اور معیارِ تعلیم کی بہتری ہوگا اور ہر متعلقہ ادارے سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے۔وزارتِ تعلیم نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول تعلیمی افسران، اساتذہ، میڈیا نمائندے اور کمیونٹی افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تبدیلی کے عمل میں فعال کردار ادا کریں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں ہر بچے کے لیے روشن مستقبل ممکن بنایا جا سکے۔ بچوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں باقاعدہ اطلاعات اور پیش رفت عوام کے سامنے لائی جائے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے