پاکستان قومی کونسل برائے فنون میں منعقدہ تین روزہ نمائش میں سماعت سے محروم طلبہ کے تخلیقی اور فنی اظہار نے خصوصی توجہ حاصل کی۔ یہ نمائش خاموش تاثرات کے عنوان سے جاری رہی اور اسے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی وزیر مملکت وائجہ قمر نے افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں وفاقی سیکرٹری ندیم محبوب بھی موجود تھے جبکہ تقریب کی رہنمائی اور انتظامی ذمے دارییں ڈائریکٹر جنرل برائے خصوصی تعلیم آصف اقبال آصف نے سنبھالی۔ نمائش میں شریک فن پاروں نے اپنی تکنیکی مہارت اور فنِ اظہار کے ذریعے حاضرین کو متاثر کیا جس کا معیار پیشہ ورانہ سطح کے برابر محسوس ہوا۔محمد ایوب جمالی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان قومی کونسل برائے فنون نے فن پاروں کی بلند معیار کی تعریف کی اور کہا کہ طلبہ کے کام میں حرفه ورانہ معیار اور بصیرت نمایاں ہے۔ وزیر مملکت وائجہ قمر نے طلبہ کے حوصلے اور صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے ہنر کسی بھی پیشہ ورانہ محفل میں کم نہیں۔نمائش کے دوران ایک اہم اعلان یہ بھی کیا گیا کہ تربیتی انٹرنشپس کو مستقل ملازمتوں میں تبدیل کرنے کے راستے تلاش کیے جائیں گے تاکہ سماعت سے محروم نوجوانوں کو معاشی خودمختاری اور عزت کے ساتھ روزگار مل سکے۔ اس سلسلے میں آصف اقبال آصف نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بچے کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا اور مستقل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔نمائش خاموش تاثرات نے نہ صرف فنی معیار بلکہ شمولیتی تعلیم کے اہم پیغام کو بھی اجاگر کیا۔ عوامی نمائش پچیس سے ستائیس فروری دو ہزار چھبیس تک اسلام آباد میں جاری رہی، جہاں عام لوگ فن پاروں کا براہِ راست مشاہدہ کر کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں سے مستفید ہوئے۔
