پاکستان۔ایران تعلقات: بدلتے ہوئے خطے میں ایک مضبوط شراکت داری
اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے زیر اہتمام، سینٹر فار افغانستان، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ (CAMEA) نے اپنے ایمبیسیڈر پلیٹ فارم کے تحت “پاکستان۔ایران تعلقات: بدلتے ہوئے خطے میں ایک مضبوط شراکت داری” کے عنوان سے ایک عوامی مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر عزت مآب رضا امیری مقدم، چیئرمین بورڈ آف گورنرز ISSI سفیر خالد محمود اور ڈائریکٹر CAMEA ڈاکٹر آمنہ خان نے خطاب کیا۔
ایران کے سفیر عزت مآب رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف طویل مشترکہ سرحد رکھتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 35 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط عوامی روابط، جغرافیائی اہمیت، تکمیلی اور غیر مسابقتی اقتصادی ڈھانچے دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران فلسطین کے مسئلے سمیت متعدد علاقائی و بین الاقوامی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکیں ایسے سنجیدہ چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید قریبی تعاون اور رابطہ ناگزیر ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ECO) اور ڈی-8 جیسے اہم علاقائی و بین الاقوامی فورمز کے رکن ہیں، جو دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں 25 سے زائد اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور مختلف شعبوں میں 25 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اس امر کا ثبوت ہیں کہ تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں ایران کے دو صدارتی دورے، اسپیکر پارلیمنٹ، سیکریٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے تبادلے دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کی عکاسی کرتے ہیں۔ سفیر رضا امیری مقدم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران مل کر تقریباً دو ارب افراد کی منڈی تک رسائی رکھتے ہیں، جو ترکیے کی شمولیت سے مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی ہم آہنگی اور اسٹریٹجک مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔
چیئرمین بورڈ آف گورنرز ISSI سفیر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے تعلقات تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مضبوط رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا اور 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران ایران کی حمایت دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات تعلقات میں نشیب و فراز بھی آئے، تاہم دونوں ممالک آج پہلے سے زیادہ قریب ہیں۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے چیلنجز کے باوجود پاکستان اور ایران بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں امن اور مشترکہ حل کی جانب پیش قدمی کے لیے پُرعزم ہیں۔
ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی روابط، جغرافیائی قربت اور باہم جڑے ہوئے سلامتی و اقتصادی مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی ہم آہنگی اور خودمختاری کے اصول پر کاربند رہنے کے عزم نے تعلقات کو مثبت اور مستقبل پر مرکوز رکھا ہے۔
انہوں نے افغانستان، غزہ میں جاری نسل کشی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ جیسے اہم معاملات پر دونوں ممالک کے مشترکہ مؤقف کو اجاگر کیا۔ انہوں نے گزشتہ برس اسرائیل کی 12 روزہ جارحیت کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کو بھی یاد کیا، جسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ اور ایران کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔
مذاکرے میں سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، طلبہ، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔
