پارلیمنٹ نے ارکان کی پنشن منسوخ کر دی

newsdesk
3 Min Read
سری لنکا کی پارلیمنٹ نے تمام ارکان اور ان کی بیواؤں کی پنشن فوری طور پر ختم کر دی، حکومتی وعدوں کے تحت یہ بڑا اقدام ہے۔

منگل کو ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کی بیواؤں کو ملنے والی پنشن فوراً منسوخ کر دی۔ اس فیصلے کو حکومتی ترجیحات میں سیاستدانوں کی مراعات کم کرنے کے سلسلے کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ نے فوری طور پر اس بل کے حق میں ووٹ دے کر قانون سازی کو فعال شکل دی۔ہرسانا نانایاکارا نے پارلیمنٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عوام جب یہاں ہونے والی بحثوں اور اراکین کی تقاریر کو دیکھتے ہیں تو وہ یہ تصور نہیں کر سکتے کہ ارکان پنشن کے مستحق ہیں۔ ان کے اس بیان نے پارلیمنٹ میں اس اقدام کے حق میں تیز رفتار حمایت کو تقویت دی۔یہ فیصلہ اس وقت منظور کیا گیا جب ۲۲۵ رکنی ایوان میں حکمران جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی اور قانون کی منسوخی کے حق میں ۱۵۴ ووٹ ڈالے گئے جبکہ محض ۲ ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس موقع پر اپوزیشن نے اعتراضات اٹھائے اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اصلاحی اقدامات پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔پارلیمنٹ پنشن کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے مطابق پالیسی سازی میں شفافیت اور عوامی اعتماد کے تقاضے سامنے رکھے گئے ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر ساجد پریماداسا نے کہا کہ پنشن کا نظام سابق ارکان کو عہدہ چھوڑنے کے بعد سماجی تحفظ فراہم کرتا ہے اور اس کے خاتمے سے ریٹائرڈ سیاستدان ممکنہ طور پر بدعنوان ذرائع سے دولت جمع کرنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔موجودہ قانون کے تحت ارکانِ پارلیمنٹ کو پانچ سال کی مدت پوری کرنے پر پنشن ملتی تھی جبکہ دیگر سرکاری ملازمین کو پنشن کے لیے کم از کم دس سال سروس درکار ہوتی تھی۔ اب اس فرق کو ختم کر کے پارلیمنٹ نے ارکان کے لیے پنشن کے اہلیت معیار کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ستمبر میں سابق صدر مہندا راجاپکسے کے سرکاری بنگلے خالی نہ کرنے کے واقعے کے بعد حکومت نے سابق رہنماؤں کی مراعات میں کمی کے لیے بھی قانون سازی کی تھی، جس میں سابق صدور کو فراہم کی جانے والی لگژری گاڑیاں، ایندھن، سکریٹری عملہ اور ذاتی سکیورٹی میں نمایاں کمی شامل رہی۔ اس ضمن میں نئی تبدیلیوں کو حکومتی اصلاحات کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے جن کا مقصد سرکاری وسائل کا احتساب اور عوامی تاثر بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے