امریکی سرمایہ کاری کے حوالے سے راولپنڈی چیمبر برائے تجارت و صنعت کے صدر عثمان شوکت نے بتایا کہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں بڑے پیمانے پر کاروبار کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی دورے کے دوران وفد نے مختلف شعبوں میں واضح دلچسپی دیکھی جو ملکی معیشت کے پائیدار فروغ کے مواقع فراہم کرتی ہے۔وفد کی مصروفیات کے دوران امریکی حلقوں نے نایاب زمینی معدنیات، کان کنی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ادویات، صحت کی سہولیات، طبی آلات، تعمیرات اور ڈیٹا بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر خاص زور دیا۔ صدر عثمان شوکت نے کہا کہ غیر روایتی شعبوں پر توجہ اور کان کنی کے لیے مخصوص پالیسی مدد پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مسابقتی مقام دلوا سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے ممالک اپنی معیشت میں امریکی شراکت داری کو مضبوط کر رہے ہیں اور پاک امریکہ تجارتی حجم تقریباً دس ارب امریکی ڈالر کے قریب ہے جسے سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔ مضبوط سفارتی تعلقات کو تجارتی مواقع میں بدلنے کے لیے مناسب حکمتِ عملی ضروری ہے۔راولپنڈی چیمبر کے وفد میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ادویات، صحت، طبی آلات اور تعمیرات کے معروف کاروباری نمائندے شامل تھے۔ امریکی قانون سازوں، حکومتی اداروں اور کاروباری تنظیموں سے ملاقاتوں میں سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کے دوران تحفظ، قانونی یقینیّت اور پالیسی کے تسلسل کی اہمیت اجاگر کی تاکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔صدر عثمان شوکت نے اعلان کیا کہ دو طرفہ سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کی ترویج کے لیے ۲۴ مارچ کو امریکہ میں ایک بڑا کاروباری کانفرنس منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستانی کاروباری شخصیات شرکت کریں گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ میں ادویات کی بلند قیمتیں پاکستان کے لیے طبی آلات اور صحت کے مصنوعات کے مشترکہ تعاون کے نئے راستے کھولتی ہیں اور مختلف امریکی ریاستیں تجارت گہری کرنے کی خواہشمند دکھائی دیں۔خانگی چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے قواعد و ضوابط کا بوجھ، ٹیکس کے دباؤ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے محدود ادارہ جاتی مدد کا ذکر کیا اور کہا کہ سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے موثر مصالحتی میکانزم اور اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مستقل مصروفیت معیشتی استحکام اور کاروباری سہولت کاری میں معاون ثابت ہوگی۔
