یورپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ

newsdesk
4 Min Read
انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز میں یورپی پالیسی پر لیکچر، غزہ، ایران اور خلیج کے حوالے سے یورپ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ۔

یورپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر نظرِ ثانی کی ضرورت، مفادات اور اقدار میں توازن پر زور

اسلام آباد، 16 فروری 2026:
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (Institute of Strategic Studies Islamabad) کے سینٹر فار افغانستان، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ (CAMEA) نے اپنی ڈسٹنگوشڈ لیکچر سیریز کے تحت ’’یورپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر نظرِ ثانی: مفادات اور اقدار میں توازن‘‘ کے عنوان سے ایک عوامی مذاکرے کا انعقاد کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی رومانیہ سے تعلق رکھنے والے Flavius Caba Maria، صدر Middle East Political and Economic Institute (MEPEI) تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر CAMEA ڈاکٹر آمنہ خان اور چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں یورپی یونین کی پالیسی کی تین باہم مربوط ترجیحات پر روشنی ڈالی: خلیجی ممالک سے روابط، غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل۔فلسطین تنازع کی بدلتی صورت حال، اور ایران کے ساتھ تعلقات کا سفارتی نظم و نسق۔ انہوں نے کہا کہ طویل غزہ جنگ نے یورپ میں عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے اور پالیسی سازوں پر انسانی بحران کے تناظر میں اپنی پوزیشن پر نظرثانی کا دباؤ بڑھا ہے۔

ڈاکٹر فلاویئس کابا ماریا نے کہا کہ یورپی یونین کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی محتاط، قانونی بنیادوں پر استوار اور داخلی طور پر منقسم حکمتِ عملی کی عکاس ہے۔ انہوں نے غزہ کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کی حمایت پر قائم ہے اور مغربی کنارے کی صورت حال پر تشویش رکھتی ہے۔ انہوں نے اوسلو معاہدوں اور ریاست کے قیام کے حوالے سے مونٹی ویڈیو کنونشن کے اصولوں کا بھی ذکر کیا۔

خلیجی خطے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اکتوبر 2024 کے یورپی یونین۔جی سی سی سربراہی اجلاس اور جوائنٹ ایکشن پروگرام 2022–2027 کے تناظر میں تجارت، ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کو اہم ستون قرار دیا۔ ایران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد تعلقات تاریخی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے سفارتی گنجائش محدود ہوئی ہے اور جوہری معاہدے (JCPOA) کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے شام کے حوالے سے یورپی حکمتِ عملی میں سیکیورٹی اور مہاجرت کے تناظر میں محدود روابط، انسدادِ دہشت گردی تعاون اور انسانی امداد کے بڑے پیکجز کا بھی ذکر کیا۔

سفیر خالد محمود نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں یورپ کا کردار اس کی اقدار—انسانی حقوق، انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قانون—اور اس کے تزویراتی مفادات کے درمیان توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین دو ریاستی حل کی حمایت، غزہ میں انسانی امداد اور لبنان و شام سمیت خطے میں سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔

تقریب میں سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ، پالیسی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مذاکرے کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے