اسلام آباد میں ادارہ برائے امن و ترقی کی جانب سے گرین زمین فیلوشپ کے دو سالہ پروگرام کے اختتام پر منعقدہ قومی اجلاس نے توانائی کے مستقبل اور موسمیاتی ایجنڈے پر نئی سمت طے کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر ۱۰۱ گرین زمین چیمپئنز شریک ہوئے جن میں ۳۷ پارلیمانی اراکین شامل تھے، جو قومی اسمبلی اور تمام ۴ صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی کرتے تھے، اور یہ پارلیمانی نمائندگان ۱۰ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے۔اس موقع پر ہونے والی گفتگو میں پروگرام کے حاصل شدہ نتائج پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور متعدد فریقین کے مابین شراکتداری کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ملک میں منصفانہ توانائی منتقلی اور موسمیاتی اصلاحات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پروگرام کے دوران سینئر توانائی ماہرین کی قیادت میں چار تکنیکی سیشنز منعقد کئے گئے جن میں پروزیومر ضابطۂ کار ۲۰۲۶، برقی گاڑیوں کے فروغ کی تیز رفتار حکمت عملی، پائیدار انفراسٹرکچر کی ترقی اور اقتصادی تبدیلی کے لیے توانائی کی منتقلی سمیت اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔کئی پارلیمانی چیمپئنز نے فیلوشپ سے حاصل شدہ تجربات اور اپنے دیرینہ مشاہدات کی روشنی میں اپنے خیالات پیش کئے۔ ان میں کنول پرویز چوہدری بطور پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی (پنجاب اسمبلی)، رحان بندکڑا بطور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے توانائی (سندھ اسمبلی)، داوُد شاہ آفریدی بطور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے توانائی و پاور ڈیپارٹمنٹ (خیبر پختونخوا اسمبلی)، شاریق جمال بطور نائب صدر نوجوان پارلیمانی فورم (سندھ اسمبلی) اور ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو بطور رکن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی (قومی اسمبلی) شامل تھے جنہوں نے پالیسی سازی اور علاقائی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔شرکائے پروگرام کو کامیابی سے فیلوشپ مکمل کرنے پر سرٹیفیکیٹ دیے گئے جبکہ پروگرام میں معاون ماہرین اور مقررین کو ان کے تعاون کے اعزاز میں تمغے اور شیلڈز کے ذریعے سراہا گیا۔ جناب مختار احمد علی، چیف ایگزیکٹو ادارہ برائے امن و ترقی نے چیمپئنز سے حلف لیا اور توانائی کی منصفانہ منتقلی اور موسمیاتی کمی کے لیے ان کی وابستگی کو دوبارہ یقینی بنایا۔ اسی دوران چیمپئنز نے باضابطہ طور پر شہری چارٹر برائے توانائی ۲۰۲۶ اور آئندہ کے مقاصد کی منظوری دی اور اس پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا۔گرین زمین فیلوشپ کی کوششیں، پارلیمانی شمولیت اور ماہرین کی رہنمائی نے اس اجلاس کو ایک مؤثر فورم بنا دیا جہاں پالیسی رہنما اور علاقائی نمائندے مشترکہ حکمت عملی اور عملی اقدامات پر متفق ہوئے تاکہ پاکستان میں توانائی کی منتقلی کو تیز، منصفانہ اور پائیدار بنایا جا سکے۔
