وفاقی وزیر برائے امورِ مذہبیات سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ اعزازی تقریب میں کہا کہ ہر مسلمان مرد اور عورت اپنی ذمہ داری کے مطابق دینی تعلیم حاصل کرنا اپنا فرض سمجھیں۔ دینی تعلیم اور حفظِ قرآن کو معاشرتی کردار سازی اور فرد و ملت کی بقا کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔وزیر نے کہا کہ پاکستان نے خاص فضلِ الٰہی سے میدانِ جنگ میں کامیابی حاصل کی، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی حافظِ قرآن ہیں، اسی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر احترام ملا اور وہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اسلام کے فروغ کے لیے ایک منفرد مقام عطا کیا گیا ہے۔سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ انسان کا قتل دراصل انسانیت کا قتل ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس واقعے کو ملکی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی سازش قرار دیا اور تمام طبقات سے تحمل و رواداری کا تقاضا کیا۔تقریب میں وفاقی وزیر نے تین امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے چونتیس امیدواروں کو اسناد اور انعامات تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ سینئر صحافی پرویز اقبال مغل، پروفیسر پیر مفتی محمد سیف اللہ عادل قادری اور مولانا محمد ابو بکر حمید صابری سمیت متعدد علما اور سماجی کارکنان کو دینی ہم آہنگی اور امن کے فروغ میں نمایاں خدمات پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ حفاظِ قرآن کے اسکول کے پرنسپل، خطیب و متولیان مساجد، صدر پاکستان علماء کونسل اسلام آباد اور اتحاد القرا پاکستان کے عہدیداران کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر ملک میں استحکام، امن اور اجتماعی ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ وزیر نے وطن کی آزادی کو ہمارے بزرگان کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے دینی تعلیم کی ترویج اور حفظِ قرآن کے فروغ پر بھرپور زور دیا تاکہ آئندہ نسلیں مذہبی و اخلاقی تربیت سے آراستہ ہوں۔
