منظور شدہ فیس کی حد سے زائد وصول کی گئی اضافی رقم واپس یا اگلے سال ایڈجسٹ کی جائے گی: پی ایم اینڈ ڈی سی
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں فیس کی حد مقرر کرنے (Fee Capping) کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بات میڈیا نمائندگان کے ساتھ ایک انٹرایکٹو اجلاس میں کہی گئی، جس کی صدارت PM&DC کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کی، جبکہ کونسل کے رجسٹرار ڈاکٹر ریحان اصغر نقوی بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے دوران صدر PM&DC نے میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کونسل کی اہم کامیابیوں اور جاری اقدامات سے میڈیا نمائندگان کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر عوامی دلچسپی کے متعدد امور، جن میں فیس کا ضابطہ، طلبہ کی فلاح و بہبود، اور اداروں کی تعمیل (Compliance) شامل ہیں، تفصیل سے زیرِ بحث آئے۔
میڈیا نمائندگان نے PM&DC کی فیس کی حد مقرر کرنے کی پالیسی کو سراہا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ چند میڈیکل اور ڈینٹل کالج اب بھی سرکاری طور پر منظور شدہ حد سے زیادہ فیس وصول کر رہے ہیں۔
ان خدشات کے جواب میں پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ PM&DC تمام میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی کڑی نگرانی کر رہا ہے تاکہ فیس کی حد مقرر کرنے کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے طلبہ کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر امیدوار طالب علم اعلیٰ معیار کی میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم تک رسائی کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ معیاری طبی تعلیم پاکستان بھر کے تمام طلبہ کا بنیادی حق ہے، چاہے ان کا مالی پس منظر کچھ بھی ہو یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ PM&DC بارہا عوامی نوٹسز اور آگاہی پیغامات جاری کر چکا ہے جن میں طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ منظور شدہ حد سے زائد کوئی اضافی فیس ادا نہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ PM&DC نے غیر مطابقت رکھنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے فیس کی حد کی خلاف ورزی کرنے والے 12 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان میں سے بعض اداروں نے عدالتوں سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث معاملہ اس وقت زیرِ سماعت (Sub Judice) ہے۔
جاری قانونی کارروائی کے باوجود، PM&DC کے صدر نے واضح کیا کہ پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل انسٹیٹیوشنز (PAMI) کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت کالجز مقدمات واپس لیں گے اور طلبہ کو ریلیف فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ PAMI کے ساتھ فالو اپ اجلاس اسی ماہ کے آخر میں شیڈول ہے۔
اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ جو ادارہ فیس کی حد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 2.5 ملین روپے تک کرنے کا خواہشمند ہو، اسے PM&DC کو تفصیلی مالی جواز (Financial Justification) فراہم کرنا ہوگا۔ فیس میں اضافے کی ہر درخواست کو مناسب ویلیوایشن (Valuation) کے ذریعے جانچا جائے گا، اور PM&DC کی جانب سے منظوری صرف مکمل جانچ پڑتال کے بعد دی جائے گی۔
PM&DC نے مزید واضح کیا کہ جن اداروں کو باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی، اگر وہ منظور شدہ حد سے زائد فیس وصول کرتے پائے گئے تو انہیں طلبہ کو ریلیف دینا لازمی ہوگا۔ صدر PM&DC کے مطابق، اضافی وصول کی گئی رقم یا تو طلبہ کو واپس کی جائے گی یا اگلے تعلیمی سال کی فیس میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی۔
فیس حد سے زائد رقم واپس یا اگلے سال ایڈجسٹ ہوگی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
