اسلامی انقلاب کی ۴۷ویں سالگرہ پر سفارتخانہ کا بیان

newsdesk
4 Min Read
ایران کے اسلامی انقلاب کی ۴۷ویں سالگرہ پر سفارتخانہ نے خودمختاری، پیشرفت اور مذاکراتی موقف کی توثیق کی۔

اسلامی انقلاب نے ایک ایسی قومی تحریک کی نمائندگی کی جس نے ایمان، تاریخی شناخت اور خودمختاری کی خواہش کے تحت غیرملکی تکیہ پر مبنی آمریت کو شکست دی اور عوامی شمولیت اور عزتِ نفس کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ اس تبدیلِ حال عمل نے ایران میں قومی خودمختاری اور عوامی شرکت کو مضبوط بنیاد پر استوار کیا۔قیامِ حکومتِ اسلامی سے لے کر آج تک ایران نے آزادی، عدل اور تسلط کے خلاف مزاحمت کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیوں کا مرکز بنایا اور مستقل مزاجی کے ساتھ داخلی و بیرونی دباؤ کے باوجود یہ پالیسی برقرار رکھی گئی۔ عوامی شرکت اور ریاستی استحکام کے ذریعے ملک نے پائیداری دکھائی ہے۔گزشتہ نصف صدی میں ایران نے گھریلو صلاحیتوں، سماجی ہم آہنگی اور ہنرمند انسانی وسائل کی بدولت سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی ہے۔ مقامی تحقیق اور تکنیکی خودانحصاری نے طویل المدتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔معاشی شعبے میں غیر منصفانہ پابندیوں اور بیشترین دباؤ کے باوجود صنعتی پیداوار میں اضافہ، غیر تیل برآمدات کی توسیع، مضبوط مالیاتی بنیادیں اور متنوع معاشی ڈھانچے کی جانب پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ساتھ ہی صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں توسیع نے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے اور مقامی پیداوار میں خود کفالت بڑھی ہے۔خارجہ پالیسی میں ایران نے متوازن اور تعمیری رویہ اپناتے ہوئے فعال سفارتکاری، عملی تعامل اور ہمسایہ ممالک، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات میں توسیع کی کوشش کی ہے۔ ایران نے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر باہمی مذاکرات، کثیر الجہتی تعاون اور استحکام کو ترجیح دی ہے۔بیشترین دباؤ کی پالیسیوں کے باوجود ایران نے جوہری معاملات پر مذاکرات کا راستہ اپنایا جو خیرسگالی اور سفارتکاری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران صہیونی رجیم کی جارحیت اور بعض مواقع پر امریکہ کی شرکت نے انسانی اور معاشی نقصانات کا سبب بنی۔عوامی احتجاجات جو دو ہزار پچیس کے دسمبر کے اواخر میں، بالخصوص ۲۸ دسمبر ۲۰۲۵ کو، بنیادی طور پر پرامن طور پر شروع ہوئے تھے، انہیں بعد ازاں انتہاپسند عناصر نے مسلح ہنگاموں اور بدامنی کے لیے استعمال کیا۔ حکومت نے پرامن اجتماع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ضبط کا مظاہرہ کیا اور شہریوں کے تحفظ، عوامی نظم اور قومی سلامتی کی ذمہ داری نبھائی۔ عوامی شعور اور ذمہ دار شرکت نے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔فی الوقت ایران کو عسکری، سیاسی اور بیانیہ جاتی دباؤ کا سامنا ہے مگر وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع میں مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی حکومتی موقف یہ ہے کہ مذاکراتی عمل اسی صورت میں تعمیری ہو سکتا ہے جب وہ آزادانہ، باعزت اور یکطرفہ ناجائز مطالبات کے بغیر ہو۔ اس موقع پر سفارتخانہ نے بانی انقلاب اور شہداء کے نظریات کی پاسداری کی تصدیق کی اور قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے