سینیٹ کے قائم مقام چیئرمین سیدال خان نے اسلام آباد کے پاک چین دوستی مرکز میں منعقدہ سیف سیکیور پاکستان اور پوگی پاکستان 2026 کی نمائشوں کا افتتاح کیا۔ یہ بین الاقوامی نمائشیں دس فروری تا بارہ فروری 2026 تک جاری رہیں جن میں حفاظتی، آگ بجھانے اور توانائی کے جدید حل پیش کیے گئے۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سلامتی اب کسی ایک ادارے یا شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی آلات اور نظام لازمی ہو چکے ہیں تاکہ ملک کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ باتیں انہوں نے حفاظتی ٹیکنالوجی کے تناظر میں واضح کیں۔قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ جرم پیشہ عناصر مسلسل اپنے طریقے بدل رہے ہیں اور اسی لیے جدید حفاظتی نظام کا تعارف اور اطلاق انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملکی سطح پر حفاظتی ٹیکنالوجی کے نفاذ نے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جدید نگرانی کے کیمرے اب محض ریکارڈنگ کا ذریعہ نہیں بلکہ مؤثر روک تھام کے اوزار بن چکے ہیں۔نمائش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس نہ صرف سکیورٹی کے شعبے کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ معیشت اور صنعتی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ شرکت کرنے والی کمپنیوں کو فائر فائٹنگ، ورک پلیس سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، نگرانی کے نظام اور توانائی کے شعبے میں جدید اور پائیدار حل متعارف کروانے کا موقع ملتا ہے جو قومی مفاد میں اہم ہے۔نمائش میں جدید نگرانی کے نظام، آگ بجھانے کے آلات، گولی رو حفاظت کے حل، حفاظتی کیمرے اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موثر فائر فائٹنگ نظام کی غفلت مالی اور جانی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور اسی طرح بلٹ پروف گاڑیاں موجودہ حفاظتی ماحول میں لازمی حیثیت رکھتی ہیں۔قائم مقام چیئرمین نے نمائش کے انعقاد میں شریک کمپنیوں اور اداروں کی کوششوں کو سراہا اور حفاظتی اور توانائی کے شعبوں میں جدید اقدامات کی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، پیش کردہ جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی اور متعلقہ فریقین سے تعاون کی آمادگی ظاہر کی۔انہوں نے آخر میں منتظمین، ملکی و غیر ملکی شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ حفاظتی ٹیکنالوجی کے فروغ کو انہوں نے قومی استحکام کے لیے بنیادی قدم قرار دیا۔
