چیف ٹریفک آفیسر راولپنڈی فرحان اسلم نے ضلع بھر میں ٹریفک انتظامات میں مزید بہتری کے لیے ٹریفک ہیڈ کوارٹر میں سرکل، سیکٹر اور ڈیوٹی افسران سمیت دفتری عملے کے ساتھ اہم اجلاس منعقد کیا اور تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں نمونہ کارکردگی پیش کرنے کے عزم کے ساتھ ٹریفک انتظامات کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے عملی اقدامات پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی کے دوران افسران اور جوان شہریوں کے ساتھ پہلے سلام اور پھر گفت و شنید کے اصول کو اپنائیں تاکہ عوام کے ساتھ اعتماد کی فضا قائم رہ سکے۔ ٹریفک انتظامات کی ترجیح ٹریفک کا بلا رکاوٹ بہاؤ اور روڈ یوزرز کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہونی چاہیے تاکہ روزمرہ آمد و رفت میں مشکلات کم ہوں۔افسران کو ہدایت دی گئی کہ شہریوں کی غلطیوں کی نشاندہی تحمل اور شائستگی کے ساتھ کی جائے اور چالان یا ہدایات دیتے وقت اخلاقی رویہ مقدم رکھا جائے۔ قانونی کارروائی شفاف طریقے سے اور قانون کے مطابق انجام پائیگی جبکہ لائسنس مراکز میں آنے والے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ کسی بھی ٹریفک اہلکار کا شہریوں خصوصاً خواتین اور بزرگ شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ٹریفک انتظامات کے نفاذ کے ساتھ حادثات کی روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔اہم سنگین خلاف ورزیوں جیسے ہیلمٹ نہ پہننا، سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا، ون وے کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری کے معاملات میں صفر رواداری اپنائی جائے گی۔ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے سطح پر قانون کی پاسداری برقرار رکھی جائے گی تاکہ راولپنڈی کو پورے صوبے میں رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔چیف ٹریفک آفیسر نے افسران و جوانوں پر زور دیا کہ اچھے اخلاق اور پیشہ ورانہ انداز سے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط رکھیں اور ٹریفک انتظامات میں مستقل بہتری کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔
