تنظیم تعاون اسلامی میں صحت خودمختاری پر زور

newsdesk
2 Min Read
اسلام آباد میں چوتھے اجلاس میں ویکسین سازی کے ذریعے صحت خودمختاری اور مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر منصوبہ بندی اور تکنیکی ہم آہنگی پر بات ہوئی

اسلام آباد میں منعقدہ چوتھے اجلاس میں تنظیم تعاون اسلامی کے ویکسین ساز گروپ نے مقامی ویکسین سازی کے ذریعے صحت خودمختاری حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ اجلاس ۹ تا ۱۰ فروری ۲۰۲۶ کو کومسٹیک کمیٹی کی میزبانی میں ہوا جس میں سعودی عرب، پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ایران سمیت متعدد ممالک کے بڑے بین الاقوامی ادارے اور کمپنیاں شریک تھیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی شرکت کی۔سفیر آفتاب احمد کھوکھر، جو کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے معاون سیکرٹری جنرل کے فرائض انجام دے رہے تھے، تنظیم کی نمائندہ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے افتتاحی نشست میں کہا کہ مقامی ویکسین کی تیاری ملکوں کو غیر ضروری بیرونی انحصار سے آزاد کر سکتی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ صحت خودمختاری کے حصول کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کی مقامی ترقی اور مشترکہ منصوبوں کی حمایت ضروری ہے۔اجلاس میں شرکاء نے گروپ کے کام کو آگے بڑھانے کے منصوبے اور تکنیکی معیارات کو ہم آہنگ کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا تاکہ مشترکہ منصوبے مؤثر انداز میں نافذ ہو سکیں۔ اس دوران مقامی پیداوار کے مراکز کو مضبوط کرنے اور معیار کی ضمانت کے لیے ضروری باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔معاون سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گروپ کی سرگرمیوں میں مختلف ممالک کے تجربات اور بین الاقوامی اداروں کے رہنمائی اصول شامل کیے جائیں گے تاکہ ویکسین سازی کی صلاحیتیں مستقل طور پر بڑھ سکیں۔ اجلاس میں شریک اداروں نے تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقاتی پہلوؤں کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا۔شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی ویکسین سازی نہ صرف صحتی خودانحصاری میں مدد دے گی بلکہ وبائی امراض کے دوران تیز رسد اور دستیابی کو بھی یقینی بنائے گی، اس لیے اگلے مرحلے میں عملی منصوبہ بندی اور معیاری ضوابط پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے