ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ۰۹ فروری ۲۰۲۶ کو منعقد ہوا، جس میں قومی نوعیت کے متعدد امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ۱۵ اگست ۲۰۲۵ کو وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے متعارف کرائے گئے ورچوئل اثاثہ جات بل، ۲۰۲۵، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو اور سینیٹر جان محمد کے توجہ دلاؤ نوٹس جو ۱۴ نومبر ۲۰۲۵ کو پیش کیے گئے تھے اور سینیٹر سید وقار مہدی کی رول ۲۱۸ کے تحت پیش کردہ تحریک پر بحث شامل تھی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے اوگرا کی منتقلیوں اور تقرریوں پر تحفظات کا اظہار کیا اور ملتان ڈویژن میں ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین اوگرا نے ان کی درخواست پر مناسب ردعمل نہیں دیا جسے وہ سیاسی دباؤ قرار دیتے ہیں۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق تکنیکی اداروں میں تکنیکی ماہرین کی تعیناتی کی جاتی ہے اور تبادلے قانون کے مطابق انجام پاتے ہیں۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے ریٹائرمنٹ کے بعد تقرری اور توسیع کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت طلب کی جس پر سیکرٹری نے کہا کہ حکومت قانون کے تحت توسیع دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے ذاتی طور پر متعلقہ فریقین سے بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا اور اراکین نے کہا کہ عوامی نمائندے حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ورچوئل اثاثہ جات بل پر بحث میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ بل کا جائزہ لینے سے قبل متعلقہ وزیر کی جانب سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دینی چاہیے تھی، جب کہ سینیٹر انوشہ رحمان نے بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پہلے ہی بل پر کافی کام کر رکھا ہے اور چند شقیں زیرِ تکمیل رہ گئی تھیں۔ سینیٹر سلیم مانڈی والا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بل کا مکمل مطالعہ نہیں کیا، لہٰذا قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر برائے پارلیمانی امور، گورنر مرکزی بینک، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، چیئرمین وفاقی محصولاتی بورڈ، سیکرٹری اطلاعاتی ٹیکنالوجی، سیکرٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ ادارے پیش ہوں گے۔نجی شعبے سے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کی تقرری کے حوالے سے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تقرری قواعد و ضوابط اور آئین کے منافی ہے کیونکہ یہ عہدہ متعلقہ ڈویژن کے سیکرٹری کا ہوتا ہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر سات ڈویژنز کے لیے اشتہارات جاری کیے گئے، کمیٹی نے انٹرویوز کیے مگر موزوں امیدوار نہ ملا، چند امیدواروں کی سمری ایڈوائزر کی سطح تک بھجوائی گئی ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ بعض اداروں میں نجی شعبے کے ماہرین لا کر نیا ٹیلنٹ متعارف کروایا جائے۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ تقرریاں میرٹ اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہونی چاہئیں، جس پر چیئرمین نے معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔غیر معیاری گیس سلنڈرز کے باعث بڑھتے ہوئے حادثات کا معاملہ بھی شدید تشویش کا باعث رہا۔ سینیٹر وقار مہدی نے بتایا کہ ملک بھر میں گیس سلنڈر دھماکوں میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، صرف پنجاب میں ۵۰۰ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے اور حیدرآباد کے ایک متاثرہ واقعے میں ۵۰ سے زائد شہری جان بحق ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اوگرا کا مؤثر چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آتا اور موجودہ سزائیں ناکافی ہیں۔ چیئرمین اوگرا نے بتایا کہ ملتان واقعے میں لواحقین کو ۱۲ لاکھ اور زخمیوں کو ۶ لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا، قدرتی گیس کی قلت کی بناء پر ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوا اور متعدد کمپنیوں کو سلنڈرز کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں تاہم غیر معیاری سلنڈرز کا مسئلہ سنگین ہے۔ اوگرا نے جرمانے اور سزاؤں میں اضافہ تجویز کیا جس کے تحت جرمانہ ڈیڑھ کروڑ اور سزا ۱۴ سال تک تجویز کی گئی ہے جس کے لیے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم درکار ہوگی، جبکہ سینیٹر انوشہ رحمان نے تجویز دی کہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کے بجائے اوگرا کے ایکٹ اور رولز میں جامع ترامیم کی جائیں تاکہ شکایات کے ازالے اور مؤثر کارروائی کا قابلِ عمل طریقہ کار موجود ہو۔ سینیٹر وقار نے ضلع سطح پر مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کی سفارش کی اور چیئرمین کمیٹی نے رولز میں ترامیم کی تجاویز ۱۵ دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر احمد خان، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، سینیٹر جان محمد اور سینیٹر منظور احمد کاکڑ کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، چیئرمین اوگرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور تمام امور کے بعد آئندہ کارروائی اور متعلقہ اداروں کو طلب کرنے کے فیصلے کیے گئے۔
