سید ذیشان علی نقوی نے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر ہونے والے افسوسناک واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے بزدلانہ، انسانیت سوز اور کھلی دہشت گردی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا نہ صرف بے گناہ شہریوں بلکہ ملک کے امن، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی پر براہِ راست حملہ ہے اور ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔سید ذیشان علی نقوی نے واضح کیا کہ ریاست کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ دوبارہ ایسے افسوسناک واقعات دھرے نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام بارگاہ دھماکہ ہماری اجتماعی زندگی اور رواداری پر حملہ ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔دھماکے میں شہید ہونے والوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ امام بارگاہ ترلائی میں ادا کی گئی جس میں مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سمیت عزاداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فضا سوگوار، آنکھیں اشکبار اور ہر دل غمزدہ تھا جب نمازِ جنازہ میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔نمازِ جنازہ کے موقع پر سید ذیشان علی نقوی اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی بھی موجود تھے جنہوں نے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا اور شہداء کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔بعد ازاں سید ذیشان علی نقوی نے پمز ہسپتال، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی، مختلف وارڈز میں جا کر ان کی خیریت دریافت کی اور ڈاکٹروں و طبی عملے سے علاج معالجے پر بریفنگ لی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متاثرین کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے پمز اور پولی کلینک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ حکومت اور انتظامیہ زخمیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ بعد ازاں وہ جامعہ الصادق امام بارگاہ پہنچے جہاں شہداء کی میتوں کے غسل کے انتظامات کا جائزہ لیا اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ اہلِ خانہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔سید ذیشان علی نقوی نے ریسکیو، سیکورٹی اداروں اور طبی عملے کی بروقت کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ قومی اتحاد، بھائی چارہ اور یکجہتی ہی دہشت گردی کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ انھوں نے شہداء کے لواحقین کو یقین دلایا کہ اس سانحے کے ذمہ دار قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔دورے کے اختتام پر انہوں نے شہداء کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ تحمل اور بھائی چارے کا مظاہرہ رکھیں تاکہ ملک کی سلامتی اور امن بحال رہے۔
