ماسکو میں پاکستان کے سفارتخانہ میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں یکجہتی کشمیر کے جذبات کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں پاکستانی تارکینِ وطن، تاجر طبقہ اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ہمدردانہ جذبات کا اظہار کیا۔تقریب میں صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے پیغامات شرکاء کے سامنے پڑھ کر سنائے گئے اور شرکاء نے سامعین کی طرح ان پیغامات پر توجہ دی۔ موجودہ موقع پر یکجہتی کشمیر کا پیغام نمایاں رہا اور شرکت کرنے والوں نے مسئلے پر یکسوئی کا تاثر دیا۔روس میں پاکستان کے سفیر جناب فیصل نیاز ترمزی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سب سے پرانا زیرِ بحث رہنے والا تنازعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کا حل خطے میں باہمی روابط اور معاشی یکجہتی کے لیے لازمی ہے۔سفیر نے واضح کیا کہ کشمیر کے تنازعہ کی موجودگی خطے کی مربوط ترقی میں رکاوٹ ہے اور اس سے شمالی جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری جیسے منصوبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جو خطے کی تجارتی مربوطی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کے حل سے پورے خطے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔تقریب کے اختتام پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حالاتِ زار کو ظاہر کرتی ہوئی تصویری نمائش منعقد کی گئی۔ شرکاء نے نمائش میں دکھائی گئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔میزبان سفارتخانہ کے انتظامات کے تحت منعقدہ اس پروگرام نے یکجہتی کشمیر کا عملی مظاہرہ پیش کیا اور شرکاء نے مسئلے کے پرامن اور مستقل حل کے مطالبے کو دوبارہ دہرایا۔
