حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کے کارکنوں کے لیے ایک جامع ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد متاثرہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر یوٹیلٹی اسٹورز کے انتظامیہ اور کارکنوں کے نمائندوں کے درمیان باقاعدہ معاوضہ معاہدہ دستخط ہوا، جس کی سربراہی ہارون اختر خان کے زیرِ اہتمام ہوئی۔
دستخطی معاہدے میں اخراج بدلہ اور معاوضے کے مکمل پیکیج کا تعین کیا گیا ہے، اور اسی فریم ورک کے مطابق چیکوں کی تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کو شفاف اور بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اہل افراد کو بروقت ریلیف پہنچ سکے۔
معاہدے کے تحت ادائیگیاں مرحلہ وار ہوں گی، پہلے مرحلے میں چالیس فیصد رقم ادا کی جائے گی جبکہ بعد ازاں دو علیحدہ اقساط میں ہر قسط تیس فیصد ادا کی جائے گی۔ اس ترتیب کو ملازمین کے مفاد اور مالی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے تاکہ اخراج یا تباہی کے اثرات کم سے کم ہوں۔
ریلیف پیکج میں سالِ دو ہزار چوبیس اور سالِ دو ہزار پچیس کے سالانہ اضافے بھی شامل کیے گئے ہیں، جو واجب الادا معاوضے کا حصہ شمار ہوں گے۔ زیادہ تر کارکنان نے اس پیکیج کو رضا مندی سے قبول کیا ہے، جو حکومت کی مزدوروں کے تئیں اعتماد اور علاقائی استحکام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ہارون اختر خان نے واضح کیا کہ حکومت وقتِ مشکل میں مزدوروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت کے عین مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ اس یقین دہانی کے ساتھ تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ریلیف پیکج منصفانہ اور مؤثر طریقے سے عمل میں لایا جائے۔
دستخطی تقریب کے بعد چیکوں کی تقسیم کا عمل عملی طور پر شروع ہو چکا ہے اور انتظامیہ نے کہا ہے کہ اہل مستحقین کو شفاف طریقے سے ادائیگیاں مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی۔ ریلیف پیکج سے متعلق تفصیلی عمل درآمد جلد ہی مکمل ہونے کی توقع ہے تاکہ کارکنان اور ان کے خاندانوں کو فوری مالی سہولت میسر آ سکے۔
