وفاقی وزیر برائے محکمہ قومی ورثہ و ثقافت اورنگ زیب خان کھچی نے ایک ادبی و فکری پروگرام میں کہا کہ قضیہ کشمیر ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نوجوان نسل کو اس ناطے کو زندہ رکھنے کا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔یہ پروگرام پاکستان اکیڈمیِ ادب کی طرف سے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقد کیا گیا جس کا عنوان "کشمیر کا معاملہ نوجوان نسل کی آواز میں” تھا اور یہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ صدارت سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کی جبکہ اجلاس میں رانا محمد قاسم نون، ڈاکٹر سمیع اللہ ملک اور محکمۂ قومی ورثہ و ثقافت کے وفاقی سیکرٹری اسد رحمن گیلانی بطورِ خاص مہمان موجود تھے۔تقریب کا آغاز قومی ترانہ سے ہوا جس کے بعد قرآنِ مجید کی تلاوت حسن احمد نے کی اور بعد ازاں جبران حیدر نے نعتِ رسول مقبول پڑھ کر شرکاء کی توجہ حاصل کی۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایچ نائن کے طلباء نے اسٹیج ڈرامہ "دی کشمیر کیس” پیش کیا جس میں کشمیری عوام کی مشکلات اور جدوجہد کو ادبی انداز میں پیش کیا گیا۔ آخر میں شرکاء کے لئے ادارتی اشاعتیں تقسیم کی گئیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت قضیہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمز خصوصاً اقوامِ متحدہ میں مستند انداز میں اجاگر کرتی رہتی ہے اور نوجوانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ادبی و فکری اقدامات خوش آئند ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قضیہ کشمیر کے بارے میں شعور و آگہی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جائے۔وفاقی سیکرٹری اسد رحمن گیلانی نے قضیہ کشمیر کو قومی ثقافتی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو محض سیاسی مباحث تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ادبی اور فکری سطح پر مستقل کوششیں جاری رہنی چاہییں تا کہ حقیقت عالمی سطح پر پہنچے۔ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نے قضیہ کشمیر کے تاریخی پس منظر اور بین الاقوامی حیثیت پر روشنی ڈالی اور وہاں کے باسیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تنقیدی سوچ اپنائیں اور عالمی ضمیر کے سامنے مسئلے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شناخت کا حصہ ہے اور اس کی جدوجہد فلسطین سے مشابہت رکھتی ہے جہاں طویل عرصے سے دکھ اور قربانیاں جاری ہیں۔ انہوں نے تجاویز دیں کہ قضیہ کشمیر کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ آئندہ نسلیں مسئلے سے باخبر ہوں۔صدرِ اجلاس سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری قوم کی طویل جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے اور اب پاکستان کے پاس بہتر عزم اور مضبوط موقف کے ساتھ عالمی سطح پر قضیہ کشمیر کو پیش کرنے کا موقع ہے۔چیئرپرسن پاکستان اکیڈمیِ ادب ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے کا موقع دینے کے لیے منعقد کیا گیا تھا کیونکہ مستقبل کا دارومدار اسی نسل پر ہے۔ انہوں نے ادب کو قومی شعور تشکیل دینے، تاریخ محفوظ رکھنے اور عالمی مکالمے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا اور پنجاب گروپ آف کالجز اور دیگر شریک اداروں کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا۔
