مہنگائی، آبادی اور صحت کا دباؤ: حکومت نے مقامی ویکسین تیاری کو قومی ضرورت قرار دے دیا

6 Min Read
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی امداد کم ہو رہی ہے، مقامی ویکسین سازی سے سالانہ بھاری مالی بوجھ سے بچاؤ کا منصوبہ پیش کیا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے ایک جامع اور بلند حوصلہ حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی ڈونر سپورٹ میں بتدریج کمی کے باعث مستقبل قریب میں پاکستان کو سالانہ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ویکسین لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کو اب “سِک کیئر” کے بجائے “ہیلتھ کیئر” کے ماڈل کی طرف جانا ہوگا، کیونکہ ویکسی نیشن بیماریوں سے بچاؤ کی پہلی اور مؤثر ترین دیوار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے اور ہر سال لگ بھگ 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، جنہیں 13 مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت مفت ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان اس وقت معمول کے حفاظتی ٹیکوں پر سالانہ 400 سے 500 ملین ڈالر خرچ کرتا ہے، جس میں سے 51 فیصد لاگت حکومتِ پاکستان اور 49 فیصد عالمی شراکت دار، بالخصوص گیوی (Gavi) فریم ورک کے تحت، برداشت کرتے ہیں۔ تاہم یہ عالمی معاونت 2030–31 تک مکمل طور پر ختم ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو سو فیصد خود کفیل ہونا ہوگا۔ وزیر صحت نے خبردار کیا کہ اگر بروقت تیاری نہ کی گئی تو ویکسین ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے قابلِ انسداد بیماریوں کے پھیلاؤ اور اسپتالوں پر دباؤ میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) گزشتہ چھ سے سات ماہ سے ایک ہی اسٹریٹجک مقصد پر کام کر رہے ہیں، یعنی پاکستان کو مقامی ویکسین تیاری کی طرف لے جانا اور مستقبل میں اسے ایک علاقائی مینوفیکچرنگ و برآمدی مرکز بنانا۔ وزیر صحت نے یاد دلایا کہ حال ہی میں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے ایچ پی وی ویکسین کو بھی قومی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر ویکسین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے چین، انڈونیشیا اور سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے گئے۔ سعودی عرب میں چونکہ ویکسین تیاری صنعتی شعبے کے تحت آتی ہے، اس لیے وہاں کی صنعتی قیادت سے بھی بات چیت کی گئی۔ وزیر صحت کے مطابق سعودی عرب گزشتہ ایک دہائی سے مقامی ویکسین تیاری پر کام کر رہا ہے اور پاکستان اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب نے نزار بن حریری کو فوکل پرسن مقرر کیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے ڈریپ کے سی ای او ڈاکٹر عبید کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ دونوں فریقین کے درمیان چھ ویڈیو کانفرنسز کے بعد ایک 11 رکنی اعلیٰ سطحی سعودی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں ڈریپ، این آئی ایچ اور نجی شعبے کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا، اور تمام تر بات چیت کا محور “پاکستان میں مقامی ویکسین تیاری” رہا۔

وزیر صحت نے این آئی ایچ کی موجودہ حالت پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ادارے میں “عملاً کچھ نہیں ہو رہا” اور اسے مکمل طور پر ازسرِنو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ این آئی ایچ کو حکومتی سطح پر ویکسین شراکت داری میں مرکزی ادارہ بنایا جائے گا اور ایک “نیا اور مؤثر این آئی ایچ” سامنے لایا جائے گا۔

کاروباری پہلو پر بات کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ویکسین سازی زیادہ منافع بخش کاروبار نہیں، کیونکہ اس کے خریدار عام صارفین نہیں بلکہ حکومتیں ہوتی ہیں۔ اسی لیے حکومت ایک قومی ویکسین پالیسی اور ویکسین الائنس تشکیل دے رہی ہے، تاکہ منتخب شراکت داروں کو مخصوص ویکسین لائنز دی جائیں اور غیر ضروری مسابقت سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی موجودہ ضرورت تقریباً 13 سے 14 کروڑ ڈوز سالانہ ہے، جبکہ تجارتی طور پر پائیداری کے لیے 30 کروڑ ڈوز کے قریب پیداوار ضروری ہوتی ہے، جس کے لیے برآمدات ناگزیر ہوں گی۔

وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ گزشتہ بجٹ میں وزارتِ صحت کے نئے منصوبے صفر کر دیے گئے تھے، تاہم وزیراعظم کی مداخلت اور منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کے تعاون سے بعض ترجیحات کو جاری منصوبوں میں شامل کیا گیا۔ ان میں ٹیلی میڈیسن، شکایات کے ازالے کا نظام، اور پرائمری ہیلتھ کیئر کو ثانوی سطح تک مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔

آخر میں سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار بنیادوں پر “پیک اینڈ فل” سے لے کر مکمل مقامی تیاری، تحقیق اور نئی ویکسین کی تیاری تک جانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی مراحل ایک سال میں شروع ہو سکتے ہیں، جبکہ مکمل مقامی پیداوار میں چند سال لگیں گے، تاہم شراکت داروں کے تجربے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے اس عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Share This Article
ندیم تنولی اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہیں جو پارلیمانی امور، موسمیاتی تبدیلی، گورننس کی شفافیت اور صحت عامہ کے مسائل پر گہرائی سے رپورٹنگ کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے