یکجہتی کشمیر کا عزمِ تجدید

newsdesk
5 Min Read
اسلام آباد میں سیمینار میں مقررین نے مقبوضہ کشمیر کی انسانی حالت، اقوام متحدہ کے فیصلے اور حقِ خودارادیت پر زور دیا۔

یومِ یکجہتیٔ کشمیر: حقِ خودارادیت کی تجدید کے عزم پر زور

اسلام آباد: یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر کے زیرِ اہتمام ایک اہم سیمینار بعنوان “یومِ یکجہتیٔ کشمیر: حقِ خودارادیت کی تجدیدِ عزم” منعقد ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

سیمینار کی مہمانِ خصوصی سابق مشیرِ وزیراعظم برائے انسانی حقوق و خواتین مشعال حسین ملک تھیں، جبکہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیر طاہر اندرابی نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔ دیگر معزز مقررین میں ڈاکٹر ماریا سیف الدین ایفندی (سربراہ شعبہ امن و تنازعہ مطالعات، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی)، اور مسز شمیم شال (رہنما آل پارٹیز حریت کانفرنس) شامل تھیں۔ تقریب کے آغاز سے قبل آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار سلطان محمود چوہدری کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مسئلہ کشمیر کے لیے ان کی طویل خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

افتتاحی خطاب میں چیئرمین بورڈ آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے سیاسی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مکمل طور پر قابلِ اطلاق ہیں اور وقت گزرنے سے ان کی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، جبری گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حقِ خودارادیت اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔

مہمانِ خصوصی مشعال حسین ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ اور ایک عظیم انسانی المیہ ہے۔ انہوں نے خود کو ’’نصف بیوہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیوں اور پُرامن جدوجہد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آسیہ اندرابی، مسرت عالم، یاسین ملک اور دیگر سیاسی قیدیوں کی غیر قانونی قید و بند کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیری سیاسی قیدیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور غیر معمولی اقدامات کیے جائیں۔

مہمانِ اعزاز سفیر طاہر اندرابی نے مسئلہ جموں و کشمیر کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون پر مبنی اور مضبوط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اس وقت تک مؤثر رہتی ہیں جب تک ان پر عملدرآمد نہ ہو جائے۔ انہوں نے 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بگاڑ، خواتین اور بچوں کے حقوق کی پامالی، ماحولیاتی تباہی اور قدرتی وسائل کے استحصال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انڈیا اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خرم عباس نے اپنے ابتدائی کلمات میں کشمیر کے مسئلے پر نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ایس ایس آئی نوجوانوں کو اس تنازع پر تحقیق اور علمی مکالمے کی جانب راغب کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اسی سلسلے میں منعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے کو ملک بھر سے بھرپور پذیرائی ملی۔

ڈاکٹر ماریا ایفندی نے اپنی تحقیقی پریزنٹیشن میں مسئلہ کشمیر کو کثیرالجہتی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد ایک منظم اور ساختی جبر کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے انہوں نے ’’منظم نسل کشی‘‘ سے تعبیر کیا۔ انہوں نے آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کو کشمیری عوام کے حقِ رائے شماری کے خلاف قرار دیا۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کی رہنما مسز شمیم شال نے کشمیری خواتین کی جدوجہد اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ہمدردی نہیں بلکہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے معاشی دباؤ، ماحولیاتی تباہی اور زرعی نظام کی بربادی کو کشمیری عوام کے خلاف جارحیت قرار دیا۔

تقریب کے اختتام پر مضمون نویسی کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے، جو مہمانِ خصوصی نے خود پیش کیے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے