اسلام آباد میں سینیٹ سیکرٹریٹ نے ۴ فروری ۲۰۲۶ء کو سندھ حکومت کے ایک تربیتی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے میں سروسز، جنرل انتظامات اور ہم آہنگی محکمہ کی تربیتی انتظام و تحقیقی شاخ کے تحت شامل تیس افسران حصہ لے رہے تھے جن کا مقصد پارلیمانی اداروں سے عملی روشنی میں واقفیت حاصل کرنا تھا۔وفد کو پارلیمانی نظام، قانون سازی کے عمل اور ایوانِ بالا کے رول کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں ایوانِ بالا کے اجلاسوں کے طریقۂ کار اور انتظامی امور کی عملی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ بریفنگ اسجہت کے ساتھ پیش کی گئی تاکہ شرکاء کو پارلیمنٹ کے روزمرہ فیصلے اور آئینی دائرۂ کار کی صحیح سمجھ مل سکے، اور اسی تناظر میں یہ پارلیمنٹ ہاؤس دورہ ان کے پیشہ ورانہ علم میں اضافہ کا باعث بنا۔وفد نے سینیٹ میوزیم کا دورہ بھی کیا جہاں پاکستان کے پارلیمانی سفر، آئینی ارتقاء اور سینیٹ کی تاریخی تحریروں پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ میوزیم میں پیش کی جانے والی معلومات نے شرکاء کو آئینی پس منظر اور پارلیمانی روایات کی گہرائی سے آگاہ کیا، جو ان کے آئندہ سرکاری فرائض میں معاون ثابت ہوں گی۔گلیٔ دستور جانے کے موقع پر وفد کو دستورِ پاکستان کی اہمیت اور جمہوری اقدار کے بارے میں جامع وضاحت دی گئی تاکہ شرکاء میں آئینی شعور کو فروغ مل سکے۔ اس نشست میں پارلیمانی روایتوں اور آئینی حقوق و فرائض کے تعلق کو عملی مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا، جس سے وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس دورہ کو علمی اعتبار سے معنی خیز قرار دیا۔بعد ازاں سینیٹ ہال کا بھی معائنہ کیا گیا جہاں ایوان کے اجلاسوں کی ترتیب، قانون سازی کے آئینی مراحل اور سینیٹ کے انتظامی شعبہ جات کے عملی امور پر تفصیلی رہنمائی کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء نے سوالات کے ذریعے عملی پہلوؤں کی وضاحت طلب کی اور متعلقہ افسران نے واضح جوابات پیش کیے۔شرکاء نے سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے فراہم کی گئی مہمان نوازی اور رہنمائی کو سراہا اور کہا کہ ایسے مطالعاتی دورے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور پارلیمانی اداروں کے بارے میں فراخ نظر سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس دورہ شرکاء کے لیے علمی تجربے کے ساتھ عملی بصیرت بھی لے کر آیا، جسے وہ اپنے متعلقہ محکموں میں مفید ثابت ہونے کے لیے شائع کریں گے۔
