ڈاکٹروں کے مسائل پر ڈاکٹر رفیع شیر کا سینیٹرز سے اجلاس

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد میں ڈاکٹر رفیع شیر نے سینیٹر انور الحق کاکر اور اشرف جتوئی سے نوجوان ڈاکٹروں اور غیرملکی گریجویٹس کے مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹروں اور فارن میڈیکل گریجویٹس کو درپیش مسائل پر اعلیٰ سطحی مشاورت

ڈاکٹر رفیع شیر کی سینیٹر انوارالحق کاکڑ اور سینیٹر اشرف جتوئی سے ملاقات

اسلام آباد: ڈاکٹروں اور فارن میڈیکل گریجویٹس کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر رفیع شیر نے سابق نگران وزیراعظم سینیٹر انوارالحق کاکڑ اور سینیٹر اشرف جتوئی سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے طبی شعبے کو درپیش اہم ساختی اور پیشہ ورانہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر رفیع شیر نے نوجوان ڈاکٹروں اور بالخصوص فارن میڈیکل گریجویٹس کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدہ ریگولیٹری تقاضے، محدود پوسٹ گریجویٹ تربیتی مواقع، لائسنسنگ میں درپیش رکاوٹیں اور کیریئر کے غیر واضح راستے طبی پیشے کے مجموعی ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان مسائل کے باعث نوجوان ڈاکٹروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، جو ملک سے برین ڈرین میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

ڈاکٹر رفیع شیر نے اس بات پر زور دیا کہ فارن میڈیکل گریجویٹس کو قومی صحت کے نظام میں مؤثر طور پر شامل کرنے کے لیے واضح، شفاف اور منصفانہ پالیسیوں کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ غیر یقینی صورتحال نہ صرف ڈاکٹروں کے مستقبل بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام کی پائیداری کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ اور سینیٹر اشرف جتوئی نے اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے طبی شعبے میں گرتے ہوئے مورال پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، ریگولیٹری اداروں اور صحت کے حکام سے مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل اور دیرپا حل تلاش کرے گی۔

سینیٹر اشرف جتوئی نے کہا کہ پاکستان کے صحت کے نظام کا مستقبل منصفانہ پالیسیوں، شفاف ضوابط اور بہتر منصوبہ بندی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹروں اور فارن میڈیکل گریجویٹس کے مسائل کو مناسب فورمز پر اٹھا کر پالیسی سطح پر اصلاحات کی کوشش کی جائے گی۔

ڈاکٹر رفیع شیر نے سینیٹرز کی جانب سے تعاون اور حمایت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازوں اور طبی برادری کے درمیان مسلسل اور بامقصد مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عملی اقدامات کے ذریعے ڈاکٹروں کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرے گی اور قومی صحت کے نظام پر اعتماد بحال ہوگا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے