قومی سلامتی ورکشاپس میں معاشرتی اعتماد کی بحالی

newsdesk
8 Min Read
قومی سلامتی ورکشاپس نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ریاست اور معاشرہ کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی راہیں کھول دیں۔

قومی سلامتی محض بندوق نہیں، مکالمہ بھی ہے

کے پی اور بلوچستان میں نان کائنیٹک حکمتِ عملی کے تحت نیشنل سکیورٹی ورکشاپس کا مؤثر کردار

تحریر: ازفرین بلوچ

ایسے دور میں جب قومی سلامتی کے چیلنجز روایتی جنگی میدانوں تک محدود نہیں رہے، پاکستان کی جانب سے نان کائنیٹک (غیر عسکری) اقدامات کی طرف بڑھتا ہوا رجحان جدید ریاستی حکمتِ عملی کی ایک سنجیدہ اور بالغ نظر مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ انہی اقدامات میں پاکستان آرمی، حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے اشتراک سے منعقد کی جانے والی نیشنل سکیورٹی ورکشاپس ایک بامعنی سرمایہ کاری کے طور پر ابھری ہیں، جن کا مقصد مکالمے، بیانیے کی درستگی اور فکری استحکام کو فروغ دینا ہے۔

کور 11 اور کور 12 کی مسلسل معاونت سے جاری یہ ورکشاپس ریاستی اداروں اور معاشرے کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے، جبکہ غلط معلومات، منفی پروپیگنڈے اور انتہا پسندانہ بیانیوں کا تعمیری انداز میں مقابلہ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش سمجھی جا رہی ہیں۔

ان ورکشاپس کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی شمولیت اور فکری گہرائی ہے۔ ان میں سیاست دانوں، صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز، سول و بیوروکریٹک افسران، اساتذہ، محققین اور طلبہ سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی یقینی بنائی جاتی ہے، جس سے یہ فورمز محض لیکچرز کے بجائے ایک زندہ مکالمے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ شرکاء کو وفاقی و صوبائی وزراء، سفیروں، اعلیٰ عسکری قیادت اور ماہرینِ امور کے ساتھ براہِ راست سوال و جواب کا موقع دیا جاتا ہے، جہاں کھلے دل سے بات چیت، اختلافِ رائے اور فکری وضاحت کی روایت کو فروغ دیا جاتا ہے۔

ورکشاپس کا ایک اہم پہلو تجرباتی سیکھنے (Experiential Learning) پر زور ہے۔ منظم فیلڈ وزٹس کے ذریعے شرکاء کو قومی سلامتی کے عملی تقاضوں سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ لاہور میں واہگہ بارڈر اور مظفرآباد میں لائن آف کنٹرول کے دورے سرحدی نظم و نسق، سیزفائر میکنزم اور مستقل دباؤ میں امن برقرار رکھنے کی نزاکتوں کو براہِ راست سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ مشاہدات طاقت اور تحمل کے درمیان نازک توازن کو اجاگر کرتے ہیں اور امن کی اصل قیمت کا احساس دلاتے ہیں۔

اسی طرح شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقاتیں ان قربانیوں کی انسانی قیمت کو نمایاں کرتی ہیں جو اجتماعی سلامتی کے لیے ادا کی جاتی ہیں۔ یہ لمحات شرکاء کو یاد دلاتے ہیں کہ قومی بیانیہ اکثر ان قربانیوں کے اعتراف کے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے، حالانکہ یہی قربانیاں امن کی بنیاد بنتی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے محض خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ذمہ دارانہ اور باوقار قومی مکالمے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

تاریخی شعور بھی ان ورکشاپس کا ایک اہم ستون ہے۔ مِری قلعہ، قلعہ بالا حصار اور دیگر تاریخی مقامات کے دورے شرکاء کو ان خطوں کی صدیوں پر محیط تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ یہ مقامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ موجودہ سلامتی کے مسائل کسی خلا میں جنم نہیں لیتے بلکہ تاریخ، سیاست اور معاشرتی تجربات سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں ورکشاپس قلیل المدتی ردِعمل کے بجائے طویل المدتی اور متوازن سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔

ورکشاپس کی افادیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب شرکاء کو وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف سمیت اعلیٰ قیادت سے براہِ راست ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ یہ رابطہ محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ سازوں اور فکری حلقوں کے درمیان ایک نایاب پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ شرکاء معیشت، گورننس، داخلی سلامتی اور علاقائی صورتحال جیسے اہم موضوعات پر کھلے انداز میں سوالات کرتے ہیں اور براہِ راست جوابات حاصل کرتے ہیں، جس سے ادارہ جاتی اعتماد کو تقویت ملتی ہے۔

فرنٹیئر کور، بالخصوص آئی جی ایف سی نارتھ اور ساؤتھ کی قیادت کے ساتھ بریفنگز، شرکاء کو سرحد پار خطرات، اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور عسکریت پسندی کی پیچیدگیوں سے آگاہ کرتی ہیں۔ یہ گفتگو سادہ بیانیوں سے آگے بڑھ کر مربوط، مشترکہ اور کمیونٹی بیسڈ ردِعمل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ان ورکشاپس کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ شرکاء کو محض سامع نہیں بلکہ شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تجاویز، سفارشات اور پالیسی آئیڈیاز کو نہ صرف سنا جاتا ہے بلکہ آئندہ منصوبہ بندی میں شامل کرنے پر غور بھی کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ پائیدار سلامتی صرف اوپر سے مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ باخبر عوامی شمولیت سے ہی جنم لیتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپس اس بات کی عملی مثال ہیں کہ نان کائنیٹک اقدامات کس طرح روایتی سلامتی حکمتِ عملی کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات کا توڑ، غلط معلومات کے خلاف مزاحمت اور باشعور حب الوطنی کا فروغ ان کے نمایاں ثمرات ہیں۔

خصوصی طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے متعلق دیرینہ غلط فہمیوں کے ازالے میں یہ ورکشاپس ایک خاموش مگر مؤثر اصلاحی کردار ادا کر رہی ہیں۔ مباحث سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان علاقوں کے مسائل کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ تاریخی محرومی، غیر متوازن ترقی، کمزور حکمرانی، شناختی خدشات، سرحد پار اثرات اور بیرونی مداخلت کے امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ ریاست اور معاشرے کے درمیان براہِ راست اور باوقار مکالمہ ان ورثے میں ملنے والے بیانیوں کی جگہ شعوری فہم اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ورکشاپس کا سب سے ٹھوس نتیجہ مرکز اور صوبوں، ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ہے، جبکہ شرکاء اپنے اپنے معاشروں میں باخبر رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہ عمل واضح کرتا ہے کہ پائیدار امن کا راستہ محض طاقت یا نعرے بازی میں نہیں بلکہ شمولیت، اعترافِ محرومی، بہتر طرزِ حکمرانی، معاشی مواقع اور مسلسل مکالمے میں پوشیدہ ہے۔

یوں نیشنل سکیورٹی ورکشاپس فوری حل کا دعویٰ تو نہیں کرتیں، مگر یہ ایک ایسے فکری اور سماجی ڈھانچے کی بنیاد ضرور رکھتی ہیں جو ہمدردی، حقیقت پسندی اور اجتماعی ملکیت پر مبنی ہو — اور یہی عناصر قومی یکجہتی اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے