پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا، وائس چانسلر فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی قیادت میں برطانوی کونسل کے تعاون سے منعقدہ مشاورتی عمل میں شرکت کی جہاں ملک کے لیے تحقیقی معیار کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس مشاورتی عمل میں طے پایا کہ یہ فریم ورک پہلے مرحلے میں منتخب دس یونیورسٹیوں میں پائلٹ کیا جائے گا اور کامیاب تجربے کے بعد ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔ فریم ورک کا مرکزی پہلو تحقیق کے معیاری نتائج اور ان کے سماجی اثرات کو ترجیح دینا ہے، تاکہ عوامی وسائل سے مالی اعانت یافتہ تحقیق کی افادیت بہتر طور پر مظاہر ہو سکے۔یہ اقدام پاک برطانیہ تعلیمی تعاون کے تحت شروع کیا گیا ہے اور متعلقہ ادارے اس کے ذریعے تحقیقی عمل کو شفاف اور نتائج کو معاشرے تک پہنچانے کے قابل بنانے کی کوشش کریں گے۔ تحقیقی برتری کو بنیاد بناتے ہوئے فریم ورک کا مقصد نہ صرف متعین معیار قائم کرنا بلکہ تحقیقی کام کے عملی اثرات کو بھی پرکھنا ہے۔فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی نے اس موقع پر تحقیقی معیار، پالیسی سے متعلقہ مطالعے اور بین الاقوامی علمی روابط کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تصدیق کی۔ یونیورسٹی کا ماننا ہے کہ معیاری تحقیق پالیسی سازی اور سماجی ترقی دونوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے ادارہ اپنے تحقیقی ماحول کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔متوقع ہے کہ اس فریم ورک کے نفاذ سے عوامی سطح پر فنڈ کی گئی تحقیق کی قدر اور اثر میں اضافہ ہوگا اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی کے معیارات میں تسلسل کے ساتھ بہتری آئے گی، جس سے پاکستان کی علمی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
