صدر توکایف کا دورۂ پاکستان: دوطرفہ تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل

newsdesk
8 Min Read
صدر توقایف کا پہلا ریاستی دورہ پاکستان، تجارتی روابط، زمینی کنیکٹیویٹی اور ریل منصوبوں پر بات چیت کی اہمیت پر روشنی

صدر توکایف کا دورۂ پاکستان: دوطرفہ تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل

تحریر: تزئین اختر

برادر ملک جمہوریہ قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکایف کا اپنے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان پر اسلام آباد آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ یہ گزشتہ بائیس برسوں میں قازقستان کے کسی صدر کا پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2003 میں قازقستان کے پہلے صدر نورسلطان نظربایوف نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان نے قازقستان کی آزادی کے فوراً بعد اسے تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ قازقستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کا نواں بڑا اور سب سے بڑا لینڈ لاکڈ ملک ہے، جو پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً دو کروڑ سے زائد ہے، جو صرف کراچی شہر کی آبادی کے برابر ہے، جبکہ آبادی کی کثافت دنیا میں کم ترین، فی مربع کلومیٹر 7.4 افراد ہے۔ اس کے باوجود قازقستان کی معیشت پورے وسطی ایشیا میں سب سے بڑی ہے۔

صدر توکایف کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا جس میں سینئر کابینہ اراکین اور اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ دورے کے دوران صدر قازقستان صدرِ پاکستان سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم کے ساتھ باضابطہ مذاکرات ہوں گے اور پاکستان–قازقستان بزنس فورم سے خطاب بھی متوقع ہے۔

یہ دورہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے، تجارت، لاجسٹکس، علاقائی روابط، عوامی سطح کے روابط اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کا بروقت اور اہم موقع فراہم کرے گا۔

یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات، تاریخی و ثقافتی قربت کو عملی تعاون میں ڈھالنے کے عزم، اور خطے میں امن و ترقی کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

قازقستان خود کو ’’لینڈ لاکڈ‘‘ کے بجائے ’’لینڈ لنکڈ‘‘ ملک قرار دیتا ہے، کیونکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ایشیا اور یورپ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے، بحیرہ کیسپین تک رسائی رکھتا ہے اور مڈل کوریڈور کا اہم حصہ ہے جو چین کو وسطی ایشیا اور آذربائیجان کے ذریعے یورپ سے جوڑتا ہے۔

قازقستان کی معیشت بڑی حد تک تیل، گیس، یورینیم، کوئلہ اور سونے جیسے غیر قابلِ تجدید قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ ملک نے 2030 تک اپنی معیشت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ 2023 تک قازقستان میں 370 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری آ چکی ہے، جبکہ اس وقت اس کی جی ڈی پی 301 ارب ڈالر ہے۔

پاکستان اور قازقستان کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور تجارتی و معاشی تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جغرافیائی طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں، بلکہ ہمسایہ ممالک کی مانند ہیں۔ 2024 میں پاکستان کی قازقستان کو برآمدات 111 ملین ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 13.4 ملین ڈالر تھیں، یوں تجارتی توازن پاکستان کے حق میں رہا، جو پاکستان کے لیے دنیا کے چند ہی ممالک کے ساتھ ممکن ہو پایا ہے۔

دونوں ممالک علاقائی روابط کو معاشی تعاون کا مرکزی نکتہ قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف پاکستان اور قازقستان بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان، اور ایشیا سے یورپ تک روابط کو فروغ دینا ہے۔ ’’یوریشیا‘‘ کا تصور آج کل اسی تناظر میں زیرِ بحث ہے۔

قازقستان یوریشین اکنامک یونین (EAEU) میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو کسٹمز ہم آہنگی، بغیر رکاوٹ ٹرانزٹ اور مشترکہ پیداواری منصوبوں پر توجہ دیتی ہے۔ اسی طرح قازقستان مڈل کوریڈور (ٹرانس کیسپین انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ روٹ) کا کلیدی راستہ ہے، جو چین اور یورپ کے درمیان ایک اہم متبادل تجارتی راہداری کے طور پر ابھر رہا ہے۔

قازقستان پاکستان کے ساتھ زمینی روابط کے قیام میں بھی گہری دلچسپی رکھتا ہے، تاکہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ عوامی و تجارتی روابط کے فروغ کے لیے قازقستان کی اسکات ایئر لائنز نے الماتی اور لاہور کے درمیان براہِ راست پروازیں شروع کر رکھی ہیں، جو محض دو گھنٹے کا سفر ہے۔

زمینی رابطے اگلا بڑا ہدف ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں قازقستان کے سفیر کے حوالے سے ایک نئی ریلوے لائن کا ذکر کیا گیا ہے جو ترکمانستان اور افغانستان کے ذریعے چمن، بلوچستان تک پاکستان کو جوڑے گی، اور مبینہ طور پر اس منصوبے میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق قازقستان کے لیے پاکستان سے زمینی رابطے کا سب سے قابلِ عمل راستہ وہی سہ فریقی ریلوے منصوبہ ہے، جو ازبکستان کے شہر ترمز سے افغانستان کے راستے خیبر پختونخوا کے خرلاچی بارڈر تک جاتا ہے، جس کا فریم ورک معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔

سی پیک بھی وسطی ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے ذریعے بھی قازقستان کے لیے راستے دستیاب ہیں۔

اسی تناظر میں ازبکستان کے صدر کا بھی جلد پاکستان کا دورہ متوقع ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان زیرِ غور رابطہ معاہدے دراصل اسی سہ فریقی ریلوے منصوبے کی توسیع ہو سکتے ہیں۔

قازقستان کے سفیر یرژان کستافن نے حالیہ گفتگو میں سیاسی روابط، تجارت، علاقائی رابطہ کاری، سکیورٹی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور عالمی فورمز پر تعاون کو دوطرفہ تعلقات کے اہم ستون قرار دیا۔

قازقستانی سفارتخانے نے گزشتہ تین برسوں میں دوطرفہ تعاون کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ 500 سے زائد قازق تاجر پاکستان آ چکے ہیں، جبکہ قازقستان کی 10 بڑی جامعات پاکستان میں کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

دونوں جانب سیاسی عزم واضح ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر پہلے ہی آستانہ کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2024 میں قازق وزیراعظم اولجاس بکتینوف نے اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں شرکت کی۔

ماہرین کے مطابق امکانات کی کوئی حد نہیں، اب یہ متعلقہ حکام پر منحصر ہے کہ آیا وہ وقت کی اس اہم گھڑی سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا مزید انتظار کو ترجیح دیتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے