اسلام آباد میں کنارا پارک، جناح روڈ بانی گالا میں منعقدہ عالمی یومِ تالاب کے موقع پر ڈاکٹر مسادق ملک نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تالابی علاقے محض پانی، جھیلیں اور کشتیاں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا بنیاد ہیں۔ اس موقع پر وزیر نے زور دیا کہ تالابی علاقے کی بحالی اور حفاظت ملک کے معاشی اور ماحولیاتی مفاد دونوں سے جڑی ہوئی ہے۔وزیر نے کہا کہ یہ وسائل محض اشرافیہ کے لئے نہیں بلکہ نوے سے زیادہ فیصد یعنی 99 فیصد عوام کے روزگار اور بقائے باہم کے لئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تالابی علاقوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کی بقاء اسی تحفظ سے وابستہ ہے اور جب تک یہ وسائل عوامی سطح پر دستیاب رہیں گے، مقامی معیشت مضبوط رہے گی۔ڈاکٹر مسادق ملک نے درختوں اور تالابی علاقوں کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ عوامی روزگار کا سہارا قرار دیا اور واضح کیا کہ درخت کاٹنا صرف ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ عام آدمی کی معیشت پر بھی براہِ راست وار ہے۔ ان کے بقول تالابی علاقے تباہ ہوں گے تو روزگار ختم ہو جائے گا اور روزگار کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تالابی علاقے اور درخت بڑے قدرتی کاربن سنکس ہیں، جن کی موجودگی کاربن جذب کرنے میں ناگزیر کردار ادا کرتی ہے۔ عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافے اور کاربن اخراج کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اس پگھلاؤ سے قدرتی آفات کو فروغ مل رہا ہے، لہٰذا تالابی علاقوں کا تحفظ موسمیاتی تبدیلی کے موثر مقابلے کا حصہ ہے۔تقریب میں زور دیا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ تالابی علاقوں کے تحفظ کے ذریعے جیتی جا سکتی ہے، اور مقامی سطح پر پالیسیوں اور عوامی شمولیت سے یہ عمل تیز کیا جا سکتا ہے۔ تالابی علاقے کی بحالی اور دفاع کو ملک کی پائیدار ترقی اور غریب طبقات کے روزگار کے تحفظ کے طور پر ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
