چھوٹے کاروباروں میں انسانی وسائل کی مضبوطی کے لیے ورکشاپ مکمل

newsdesk
3 Min Read
این پی او پاکستان اور ایشین پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے کراچی میں چار روزہ ورکشاپ ختم ہوئی، انسانی وسائل کی بہتری اور اہلیت سازی پر زور دیا گیا۔

اے پی او–این پی او کا ایس ایم ایز میں ہیومن کیپیٹل مینجمنٹ پر چار روزہ بین الاقوامی ورکشاپ اختتام پذیر

کراچی: ایشیائی پیداواری تنظیم (اے پی او)، جاپان اور نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او)، پاکستان کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں ہیومن کیپیٹل مینجمنٹ سے متعلق چار روزہ بین الاقوامی ورکشاپ آج پی سی ہوٹل کراچی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔

ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں پالیسی سازوں، پیداواری ماہرین، صنعت سے وابستہ نمائندگان اور بین الاقوامی شرکاء نے شرکت کی، جہاں ایس ایم ایز میں انسانی وسائل کے مؤثر انتظام اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے متعلق مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔

اختتامی سیشن کے دوران شرکاء کی جانب سے ووٹ آف تھینکس فلپائن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انتھونی سنکو سیلز نے پیش کیا، جنہوں نے این پی او پاکستان، اے پی او جاپان، ماہر مقررین اور منتظمین کا ایک جامع اور مفید پروگرام کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

این پی او پاکستان کی جانب سے اختتامی کلمات چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عالمگیر چوہدری نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی مسابقتی صلاحیت اور پیداواری کارکردگی بڑھانے کے لیے ہیومن کیپیٹل مینجمنٹ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ این پی او پاکستان استعداد کار بڑھانے، پالیسی سپورٹ فراہم کرنے اور اے پی او کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایس ایم ایز کی معاونت جاری رکھے گا۔

بعد ازاں این پی او پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن صاحبزادی ماہین خان نے ادارے کی جانب سے ووٹ آف تھینکس پیش کرتے ہوئے اے پی او جاپان، چیف گیسٹ، ماہر مقررین، شرکاء اور انتظامی ٹیم کا ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) محمد ریحان حنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہنر مند اور باصلاحیت افرادی قوت صنعتی ترقی کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے پیداواری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا تاکہ اس طرح کی تربیتی سرگرمیوں کے عملی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے