مریم نواز کی قیادت میں احتساب کا وعدہ

newsdesk
10 Min Read
بھٹی گیٹ حادثے کے بعد مریم نواز کے سخت اقدامات سے پنجاب میں سرکاری لاپرواہی کے خلاف احتساب کا نیا دور شروع ہوا۔

مریم نواز کی جرآت مندانہ قیادت، ادارہ جاتی غفلت کے خلاف تاریخ ساز اقدامات۔
ڈاکٹر شائستہ خان جدون، رکن قومی اسمبلی۔

اسلام آباد(طالعہ نورالعین خان) بھاٹی گیٹ لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا اندوہناک واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے قیامت بن کر ٹوٹا بلکہ اس نے ہمارے اجتماعی ضمیر اور ادارہ جاتی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ ایسے سانحات محض حادثات نہیں ہوتے، بلکہ برسوں کی غفلت، ناقص نگرانی اور جواب دہی کے فقدان کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا بروقت، جرات مندانہ اور غیر معمولی فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ پنجاب میں اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کا دور شروع ہو چکا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر شائستہ خان جدون، رکن قومی اسمبلی، نے گزشتہ روز خصوصی طور پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس تاریخی فیصلے کو نہ صرف سراہتی ہوں بلکہ اسے ایک مثال قرار دیتی ہوں جس کی پیروی اگر ماضی میں بھی کی جاتی تو آج ہمارا ملک رشوت خور، غیر ذمہ دار اور نااہل عناصر سے کہیں حد تک پاک ہوتا۔ یہ فیصلہ اس سوچ کی نفی کرتا ہے کہ اقتدار میں آکر سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ مریم نواز نے ثابت کیا ہے کہ اختیار عوام کی امانت ہے اور اس امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں جس طرح ذمہ دار افسران سے بازپرس کی گئی، وہ ہمارے نظام میں ایک نئی روایت کی بنیاد ہے۔ ایک افسر کی جانب سے رسمی “سوری” پر وزیراعلیٰ کا دوٹوک سوال“ کیا آپ کے سوری کہنے سے ماں بیٹی زندہ ہو جائیں گی؟”
محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس سوچ کا اعلان تھا کہ اب خانہ پری اور رسمی معذرت کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ادارہ جاتی بے حسی کو آئینہ دکھایا گیا۔
ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعے میں براہ راست ذمہ دار ٹھیکیدار سے ایک کروڑ روپے وصول کر کے جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے خاندان کو دینے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ ذمہ داران کی گرفتاری، نوکری سے ہمیشہ کے لیے برطرفی اور آئندہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دینا وہ سخت فیصلے ہیں جن کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ اقدامات واضح پیغام دیتے ہیں کہ اب پنجاب میں انسانی جان کی قیمت محض ایک فائل یا رپورٹ نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے سانحات میں اکثر ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے، کنٹریکٹرز، نگرانی کرنے والے محکمے اور پولیس سب اپنی اپنی حدود کا بہانہ بنا کر بچ نکلتے ہیں۔ مگر مریم نواز نے اس روایت کو توڑا۔ انہوں نے اداروں کو یاد دلایا کہ عوامی جان و مال کا تحفظ کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ ریاست کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے انہوں نے مجرمانہ غفلت برتنے پر سخت ترین سزا دلوانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے بتایا کہ تسلسل میں بھاٹی گیٹ کے واقعے پر پولیس کے رویے کا سخت نوٹس لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ریسکیو کال پر متاثرہ خاندان کے خاوند اور دیور کو حراست میں لینا، ان پر تشدد اور زبردستی جرم قبول کروانے جیسے اقدامات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ پولیس کلچر میں گہری جڑ پکڑ چکی ھیں اور ان کی خرابیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شائستہ خان جدون رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کیا گیا اور ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا۔ ایس پی سٹی کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وردی بھی احتساب سے بالاتر نہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے آئی اے بی کو آزادانہ تحقیقات کے لیے خط لکھنا ایک مثبت قدم ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے خطوط تبھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب سیاسی قیادت مضبوط ہو۔ ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت نے یہ اعتماد دیا ہے کہ تحقیقات محض کاغذی کارروائی نہیں ہوں گی بلکہ ذمہ داران کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ تحقیقات میں اس بات کا بھی تعین ہوگا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کیوں ہوا اور کس کے حکم پر ہوا یہ سوالات برسوں سے دبائے جاتے رہے ہیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ اداروں کی اصلاح محض چند افسران کی معطلی سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایک مضبوط سیاسی عزم، واضح پالیسی اور مستقل نگرانی درکار ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے جس طرح اے آئی بی کو جلد از جلد تحقیقات مکمل کرنے کی سفارشات دیں، وہ اسی عزم کی علامت ہے۔ تحقیقات کی روشنی میں افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن کا اعلان ادارہ جاتی اصلاح کی جانب ایک عملی قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ادارے اکثر طاقتور حلقوں کے زیرِ اثر رہتے ہیں، جس کے باعث عام شہری انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ مریم نواز کا یہ فیصلہ اس تاثر کو زائل کرتا ہے کہ اقتدار اشرافیہ کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ چاہے ٹھیکیدار ہو یا افسر، اگر اس کی غفلت سے ایک جان بھی ضائع ہوئی تو حساب دینا ہوگا۔ یہی وہ سوچ ہے جو ریاست کو مضبوط بناتی ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ میں یہ بات پورے وثوق سے کہتی ہوں کہ اگر ماضی میں بھی اسی طرح کے فیصلے کیے جاتے، اگر اداروں کو بروقت لگام دی جاتی، تو آج ہمارے شہروں میں کھلے مین ہول، ٹوٹی سڑکیں اور جان لیوا غفلت معمول نہ بنتی۔ ادارہ جاتی نااہلی نے عوام کو جس اذیت سے دوچار کیا ہے، اس کا مداوا صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی قیادت بے خوف ہو۔ مریم نواز نے ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ قبول نہیں کرتیں اور عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ حلقے ایسے سخت فیصلوں کو “سیاسی پوائنٹ اسکورنگ” قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی نے باور کروایا اور کہا کہ مگر میں پوچھتی ہوں کیا انسانی جان کا تحفظ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے؟ کیا ذمہ داروں کو سزا دینا سیاست ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں ایسی سیاست پر فخر ہونا چاہیے۔ عوام کو اب نعروں سے نہیں، نتائج سے غرض ہے، اور مریم نواز کے اقدامات نتائج کی طرف پہلا مضبوط قدم ہیں اور ھم چاہتے ھیں کہ ایسے ھی بولڈ اقدامات صوبہ خیبر پختون خواہ میں بھی ھونے چاہیے۔
پنجاب میں انتظامی غفلت کے خلاف جو پیغام دیا گیا ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ ایسا مظاہرہ دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئے گا۔ جب ٹھیکیدار کو معلوم ہوگا کہ کوتاہی کی قیمت کروڑوں میں اور نوکری سے ہمیشہ کی برطرفی ہے، جب افسر کو احساس ہوگا کہ لفظ “سوری” کافی نہیں، تو نظام خود بخود درست سمت میں آنا شروع ہو جائے گا۔ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ خان جدون نے کہا کہ آخر میں، میں ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے نہ صرف وزیر اعلیٰ بننے کا حق ادا کیا بلکہ ایک ماں کی طرح پنجاب کے عوام کے درد کو محسوس کیا۔ اداروں کو آئینہ دکھانا آسان نہیں ہوتا، مگر یہی قیادت کا امتحان ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو پنجاب ایک محفوظ، ذمہ دار اور جواب دہ صوبہ بنے گا، اور یہی وہ تبدیلی ہے جس کی عوام برسوں سے منتظر تھی۔

Read in English: Maryam Nawaz’s Bold Leadership: Historic Action Against Institutional Negligence Shaista Khan Jadoon, MNA

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے