چپورسن ویلی میں شدید تباہی اور فوری امداد کی ضرورت

newsdesk
2 Min Read
چپورسن ویلی گلگت بلتستان میں زلزلے سے ہزاروں گھر منہدم، متاثرین کو منفی بیس میں فوری گرم کمبل، خیمے، خوراک اور ادویات درکار ہیں

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی فوٹو جرنلسٹ لورانے نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ چپورسن ویلی گلگت بلتستان میں حالیہ زلزلے نے بے پناہ تباہی مچا دی ہے اور علاقے میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ لورانے نے بتایا کہ چپورسن زلزلہ کے نتیجے میں متاثرین کو انتہائی کم از کم بنیادی سہولیات تک رسائی ممکن نہیں رہ گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت وہاں درجہ حرارت منفی بیس کے قریب ہے اور اتنی شدید سردی میں بوڑھے، بچے اور جانور بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کو فوری طور پر گرم کمبل، خیمے، خوراک اور ادویات درکار ہیں تاکہ سردی اور بیماریوں سے تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔اس موقع پر ہنزہ چھوٹے تاجروں اور چھوٹی صنعتوں کے صدر مبارک حسین نے مس لورانے کی امدادی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ لورانے اپنی ذاتی جمع پونجی اور وسائل خرچ کر کے متاثرین کی مدد میں لگ گئی ہیں، جسے ڈنمارک میں پاکستان کے سفارت خانے نے بھی سراہا ہے۔ مبارک حسین نے بتایا کہ مقامی سطح پر امداد کے باوجود بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو پا رہیں۔کانفرنس میں بتایا گیا کہ چین کی طرف سے گزشتہ سال بھیجا گیا امدادی سامان جو سرحدی راستے پر پڑا ہوا تھا، چپورسن متاثرین تک پہنچانے کے لیے وفاقی وزیر جام کمال سے ملاقات کی گئی تھی مگر ہدایت کے باوجود وہ سامان ابھی تک متاثرین کو نہیں دیا جا سکا، جس کے باعث چپورسن زلزلہ کی زد میں آنے والی فیملیز سخت سردی میں بے سروسامانی کا شکار ہیں۔مس لورانے اور مقامی رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر چپورسن زلزلہ متاثرین کے لیے ایک منظم امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو گرم کمبل، خیمے، خوراک اور ادویات فراہم کی جا سکیں اور انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے