قومی ادارۂ صحت اسلام آباد نے نِپاہ وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سو معائنہ کٹس حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں سرحدی، ہوائی اور سمندری داخلی راستوں پر طبی نگرانی کو سخت کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مشتبہ مریضوں کی بروقت شناخت اور لیبارٹری تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔جن افراد کو داخلے کے پوائنٹس پر نِپاہ کے مشتبہ علامات ظاہر ہوں گے ان کے نمونے فوری طور پر قومی ادارۂ صحت اسلام آباد کو بھیج دیے جائیں گے تاکہ موثر اور مصدقہ تشخیصی عمل کیا جا سکے۔ نمونہ جات میں گلے اور ناک کے نمونے، خون، دماغی مايع اور پیشاب شامل ہوں گے اور انہیں مخصوص بائیوسیکیورٹی پروٹوکول کے تحت جمع اور منتقل کیا جائے گا۔حکام نے بتایا ہے کہ تشخیصی عمل میں جدید جینیاتی طریقۂ کار استعمال کیا جائے گا جو نِپاہ وائرس کی شناخت کے لیے معیاری سمجھا جاتا ہے، اور تمام نمونے سخت سرد زنجیر اور حفاظتی شرائط میں منتقل کیے جائیں گے تاکہ نتائج کی سچائی برقرار رہے۔سرحدی صحت کے متعلقہ اداروں اور قومی ادارۂ صحت کی مشترکہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ نِپاہ وائرس خطّے کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ سرحد پار سفر اور انسانی رابطے کے باعث اس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔ خصوصاً بھارت کے مغربی بنگال میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی روشنی میں اضافی احتیاط ضروری قرار دی گئی ہے، جہاں کم از کم ۵ متاثرین کی اطلاعات اور طبی عملے میں انفیکشن کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔سرحدی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام آمد و رفت کرنے والے مسافروں، عملے، ڈرائیوروں اور معاون عملے کی سو فیصد طبی جانچ لازمی کی جائے اور بغیر طبی کلیئرنس کسی کو داخلی اجازت نہ دی جائے۔ ہر مسافر کا حرارتی معائنہ، طبی جانچ اور گزشتہ ۲۱ دنوں کی سفری تاریخ کی تصدیق کی جائے گی، جبکہ زیادہ خطرے والے علاقوں سے آنے والوں کے لیے سخت نگرانی اور جھوٹے بیانات کی دستاویز سازی لازم قرار پائی ہے۔اسکریننگ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نِپاہ وائرس کی ابتدائی علامات جیسے بخار، سر درد، سانس کی تکالیف اور اعصابی علامات بشمول الجھن، غنودگی یا شعور میں تبدیلی کے لیے چوکس رہیں۔ کوئی بھی فرد جو مشتبہ کیس کی تعریف پر پورا اترتا ہو اسے موقع واردات پر الگ رکھا جائے گا، اس کی حرکت روک دی جائے گی اور انفیکشن کنٹرول کے سخت ضوابط کے تحت ابتدائی طبی انتظام کے بعد نامزد الگ شعبہ یا اعلیٰ طبی مرکز کو منتقل کیا جائے گا۔قومی ادارۂ صحت نے صوبائی محکموں کو ہدایت دی ہے کہ ہر صوبہ کم از کم ایک تیسری سطح کا ہسپتال یا متعدی امراض کا یونٹ بطور نامزد مراکز نشان زد کرے، تربیت یافتہ عملہ، معیاری حفاظتی ماسک اور دیگرتعلیمی حفاظتی ساز و سامان دستیاب رکھے اور فوری کارروائی کے لیے ٹیمیں چوکنا رکھے تاکہ کیس کی تفتیش اور رابطہ تلاش بروقت کی جا سکے۔نِپاہ وائرس کے حوالے سے صحتیاتی ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ وائرس عموماً پھل کھانے والی چمگادڑوں سے آلودہ خوراک کے ذریعے انسانوں تک پہنچتا ہے، براہِ راست متاثرہ جانوروں جیسے چمگادڑ یا سؤر کے رابطے اور متاثرہ افراد کے قریبی غیر محفوظ رابطے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر طبی مراکز میں غیر مناسب حفاظتی انتظامات کی صورت میں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، عضلاتی درد اور قئے شامل ہیں جو تیزی سے دماغی سوزش، دورے اور کوما کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، بعض شدید کیسز میں انسان کی حالت چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں بگڑ سکتی ہے۔عام طور پر انکیوبیشن پیریڈ چار سے چودہ دن کے درمیان ہوتا ہے مگر بعض صورتوں میں یہ مدت پینتالیس دن تک بڑھ سکتی ہے، جو سرحدی سطح پر خاموش منتقلی کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ طبی حوالہ جات میں کہا گیا ہے کہ مخصوص ویکسین یا مؤثر اینٹی وائرل دوا زیرِ منظور موجود نہیں، علاج عمومًا معاونہ ہوتا ہے اور شدید مریضوں کو عموماً تنفسی معاونت کی ضرورت پڑتی ہے۔قومی ادارۂ صحت نے تمام داخلہ پوائنٹس پر روزانہ کیس یا صفر ریپورٹنگ لازمی قرار دے دی ہے اور کوئی بھی غفلت سنگین لاپرواہی سمجھ کر نمٹائی جائے گی۔ عالمی ادارۂ صحت نے موجودہ بھارتی کیسز کے حوالے سے فی الحال بین الاقوامی پھیلاؤ کا عام خطرہ کم قرار دیا ہے، تاہم وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت شناخت اور چوکسی ہی تاخیر شدہ ردعمل سے بچنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ تمام صوبائی انتظامیہ، سرحدی حکام اور طبی سہولتیں وفاق کو اپنی تیاریاں اور حفاظتی اقدامات سے باخبر رکھیں گی۔
