راولپنڈی اسلام آباد میں یکساں اذان اور نماز نافذ

newsdesk
4 Min Read
وفاقی مشاورتی اجلاس میں راولپنڈی اسلام آباد میں یکساں اذان و نماز کا جلد نفاذ، قانون سازی اور مساجد کی بحالی کے فوری اقدام کی منظوری

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت وزارت مذہبی امور میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکساں اذان اور نماز کے نفاذ کے لیے جلد عملی اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علما، مشائخ عظام اور تاجروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور نظام کو مربوط بنانے کے لیے کیلنڈر مرتب کرکے باقاعدہ نفاذ شروع کرنے کی سفارش کی گئی۔صوبائی سرحدوں تک اثرات کے پیش نظر وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ پچھلی حکومت کے دور میں ایک مرتبہ یکساں نظام نافذ ہوا تھا مگر بعد ازاں تبدیلی حکومتوں کی وجہ سے عمل رُک گیا۔ اب اس سفر کو اتفاق رائے سے مکمل کرنے کے لیے مشاورتی فِرم میں بیٹھا گیا ہے اور توقع ظاہر کی گئی کہ جب راولپنڈی اسلام آباد میں یکساں اذان اور نماز کا نفاذ ہوگا تو اس کے مثبت اثرات چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان تک پہنچیں گے۔وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے دفاتر اور تجارتی مراکز میں وضو اور نمازی سہولیات کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ایسا ماحول بننے سے شہری سطح پر نماز باجماعت کا فروغ خود بخود پید ا ہوگا۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر چوہدری محمد کاشف نے اعلان کیا کہ اسلام آباد کی دکانیں اذان کے وقت رضا کارانہ طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس عمل کو قانونی حیثیت دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں الیکٹرانک ذرائع ابلاغ پر پانچوں نمازوں کی اذان نشر کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی۔ممبر مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی مفتی ضمیر احمد ساجد نے کہا کہ یکساں اذان کے نفاذ کے لیے آسان اور مرحلہ وار طریقہ اپنانا چاہیے، ابتدا نمازِ جمعہ کے اوقات سے کی جائے اور آہستہ آہستہ باقی نمازوں تک یہ رجحان بڑھایا جائے۔ شرکاء نے متحدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جب ہم دنیاوی معاملات میں یکجا ہو سکتے ہیں تو خالق کے حضور بھی ایک منظم انداز اپنانا بہت ضروری ہے۔اجلاس میں مساجد میں خواتین کے لیے مخصوص جگہ مختص کرنے، محکمہ اوقاف کی زیرِ انتظام مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں کی تزئین و مرمت کے لیے رکے ہوئے فنڈز جاری کرنے اور مساجد کے ماحول کو نمازی جماعت کے فروغ کے لیے سازگار بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا سید چراغ الدین شاہ، مفتی ضمیر احمد ساجد، مولانا عبدالرزاق حیدری، چوہدری محمد کاشف، ضیا احمد راجہ، علامہ سجاد نقوی، محمد شبیر علی خان، مولوی عبدالحکیم، پیر محمد ممتاز ضیا نظامی، علامہ ریاض الحق چشتی، مفتی عبدالسلام جلالی، مفتی جمیل الرحمن فاروقی، قاری محبوب الرحمن، سجاد قمر، قاری محمد یوسف، حافظ عبدالقدوس، سجاد حیدر، ڈاکٹر شاہد الرحمن اور ڈاکٹر محبوب الرحمن شریک رہے۔وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ مشاورتی اجلاسوں کی روشنی میں عملی، متوازن اور مقبول اقدامات مرتب کیے جائیں گے تاکہ نظام صلوٰۃ کے نفاذ، اتحادِ امت اور دینی ہم آہنگی کو تقویت ملے اور جلد ایک حتمی کیلنڈر جاری کر کے باقاعدہ عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے