اسد اللجقانی کی قیادت میں پاکستان قبائل موومنٹ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک نمایاں اجلاس منعقد کیا جہاں تنظیم کی مرکزی و صوبائی قیادت کے نمائندگان بشمول وائس چیئرمین حاجی عجب خان موجود تھے اور انہوں نے قبائلی مسائل، افغان پالیسی اور تیراہ آپریشن پر اپنے تحفظات واضح انداز میں بیان کیے۔ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی کمزور خارجہ پالیسیوں کی بدولت سرحدی علاقوں میں رہنے والے پشتون اور دیگر قبائل گزشتہ عرصے سے شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔ قبائلی رشتے نسب و روایات اور ایمان کے رشتے ہیں جنہیں بین الاقوامی طاقتیں ختم نہیں کر سکتیں اور معرکۂ حق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قبائل پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس پس منظر میں قبائلی مسائل کو ملکی اور علاقائی امن کے نقطۂ نظر سے فوری حل کی ضرورت قرار دیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان پناہ گزینوں کے نام پر متعدد قبائل بلاجواز تنگ کیے جا رہے ہیں جن میں سلیمان خیل، وزیر، مسعود، دوتانی، مہمند، باجوڑ، جنوبی و شمالی وزیرستان کے علاوہ بلوچستان، گلگت بلتستان، پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر کے متاثرہ خاندان شامل ہیں۔ بیان میں نشاندہی کی گئی کہ اسلام آباد اور پنجاب میں قائم ہولڈنگ کیمپس میں انسانی حالات انتہائی ابتر ہیں اور اس کی پوری ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔نادرا اور متعلقہ بورڈز کی جانب سے شناختی کارڈز کی طویل التوا کی شکار فائلوں خصوصاً ضلع ژوب تحصیل سمبازہ کے سلیمان خیل قبائل کے حالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قبائل مہینوں سے کیمپس میں محصور ہیں اور انہیں روزگار کی طرف باعزت انداز میں واپس جانے کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ نادرا فوری طور پر شناختی کارڈز کی تصدیق کے فیصلے کرے تاکہ متاثرہ افراد اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں اور محکمہ داخلہ کو ہدایت دی جائے کہ زیرِ تصدیق پاکستانی قبائل کو رہا کیا جائے جبکہ غیر ملکی افغان باشندوں کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے۔تحفظات کا اظہار تیراہ میں حالیہ آپریشن اور جبری بے دخلیوں پر بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ سخت سردی میں قبائلی عوام کی جبری بے دخلی خیبرپختونخوا حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لوگوں کو مقتدر حلقوں پر الزام دے کر گمراہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان قبائل موومنٹ نے واضح کیا کہ وہ ٹارگٹڈ آپریشنز کے خلاف نہیں مگر اس کی آڑ میں عوام اور قبائل کو ریاست کے خلاف اکسانا ناقابلِ قبول ہے۔علاوہ ازیں بیان میں کسی ممکنہ بین الاقوامی منصوبے میں پاکستان کی شمولیت کو مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا بانیٔ پاکستان کے نظریات کے منافی ہوگا اور پہلی وزارتِ عظمیٰ کے امریکی دورے کے تناظر میں واضح کیا گیا کہ ہماری روح فروخت نہیں۔ اسی طرح سی پیک کے فیز دو کو پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے لیے مثبت قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حکمرانوں کی مخلصی سے یہ منصوبہ پہلے مکمل ہو سکتا تھا۔اجلاس کے اختتام پر گل پلازہ کراچی کے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور اسے پورے ملک کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ پاکستان قبائل موومنٹ نے شہداء کے لیے دعا کی اور لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا جبکہ حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر قبائلی مسائل کے حل کے لیے عملي اقدامات کیے جائیں۔
